اسلام آباد مذاکرات 2.0: پاکستان نے کیا پایا، اگلی حکمتِ عملی کیا ہے؟

پاکستان اب بھی ان دونوں حریفوں کو دوبارہ میز پر لا سکے گا؟
شائع 13 اپريل 2026 02:45pm

پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ چند ہفتوں سے جو گہما گہمی اور جوش و خروش نظر آ رہا تھا، وہ اتوار کی صبح اچانک اس وقت خاموشی میں بدل گیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سرینا ہوٹل میں 21 گھنٹے طویل ملاقاتوں کے بعد ایک دو ٹوک فیصلہ سنایا۔ وینس کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی تھیں، مگر دوسرے فریق نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔

اس بیان کے بعد جہاں امن کی اُمیدوں پر اوس پڑ گئی، وہیں یہ سوال بھی کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا پاکستان اب بھی ان دونوں حریفوں کو دوبارہ میز پر لا سکے گا؟

اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران بظاہر کوئی بڑا معاہدہ طے نہیں پایا، لیکن ماہرین اسے پاکستان کی ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

سینیئر سیاست دان مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ 21 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں اور تکنیکی ماہرین نے نہایت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی اردو‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے دو ایسے دشمنوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا جنہوں نے 1979 کے بعد کبھی براہ راست بات نہیں کی تھی۔“

اسی طرح تجزیہ کار طلعت حسین کا خیال ہے کہ پاکستان نے اس وقت قدم اٹھایا جب دنیا کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اور ثابت کیا کہ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کے لیے ان مذاکرات کی اہمیت صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔

ملک کا 85 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے آتا ہے جو اب جنگ کی زد میں ہے۔

ملک کی معیشت اتنی دباؤ میں ہے کہ اسکول بند ہیں اور سرکاری ملازمین ہفتے میں صرف چار دن کام کر رہے ہیں تاکہ بجلی بچائی جا سکے۔

ایسے میں پاکستان ایک ’پیس میکر‘ بن کر نہ صرف خطے میں امن چاہتا ہے بلکہ اپنی گرتی ہوئی معیشت کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر تعلقات کی راہ بھی ہموار کرنا چاہتا ہے۔

سابق قومی سلامتی مشیر معید یوسف کہتے ہیں کہ، ”گزشتہ روز تک ہر طرف ایک اُمید کی لہر تھی، مگر پھر سب بکھر گیا۔“

معید یوسف نے امریکی اخبار ’نیویارک‘ ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب چین کا کردار اہم ہوگا جو شاید ایران کو اگلے مرحلے کے لیے آمادہ کر سکے۔

اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن وولف گینگ فوکس نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ”پاکستان شاید اتنے کم وقت میں کسی کو مجبور تو نہ کر سکے، لیکن وہ جنگ بندی کے باقی ماندہ نو دنوں کا فائدہ اٹھا کر ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایک نئی تجویز پیش کر سکتا ہے جسے اسلام آباد ٹاکس 2.0 کا نام دیا جا سکتا ہے۔“

دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، لیکن اب یہ ان پر ہے کہ وہ ہمارا بھروسہ کیسے جیتتے ہیں۔

اگر خدانخواستہ جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو پاکستان ایک مشکل امتحان میں ہوگا، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے اور وہاں دستوں کی روانگی کے بعد۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان پر دباؤ بڑھے گا، تاہم ایران بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہے گا جو پاکستان کو براہ راست اس جنگ میں دھکیل دے۔

اس وقت گیند امریکا کے کورٹ میں ہے کہ صدر ٹرمپ خود کو اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں یا جنگی جنون کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔