لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ، بیروت میں شہریوں کا جشن، ہوائی فائرنگ

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا اور ہمدردی کا اظہار
شائع 17 اپريل 2026 11:04am

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر جشن منایا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہو گئی، جس کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت میں جشن اور ہوائی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے باہمی رضامندی سے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگ بندی امریکی مشرقی وقت کے مطابق جمعرات شام 5 بجے سے نافذ ہوئی، جس سے قبل انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے بات کی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ دونوں رہنماؤں نے امن کے حصول کے لیے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ بندی ان کے ملک کا بنیادی مطالبہ تھی، جس کے لیے وہ جنگ کے آغاز سے کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ حالیہ دنوں میں امریکہ میں ہونے والے لبنانی اور اسرائیلی حکام کے اجلاس کا مرکزی نکتہ بھی تھا۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے مکمل طور پر بند ہوتے ہیں تو گروپ جنگ بندی کی پابندی کرے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ضرورت پڑنے پر لبنان میں ’سیلف ڈیفنس‘ کے تحت کارروائی کر سکے، جبکہ جنگ بندی کو باہمی رضامندی سے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ دنوں میں جنوبی علاقے صور میں حملوں کے دوران 9 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک پیرامیڈک بھی شامل تھا۔ اسی طرح غازیہ کے علاقے میں اسرائیلی حملے میں 8 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے۔

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ہلاک ہونے والوں کے لیے دعا اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے 10 لاکھ سے زائد افراد جلد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم اور لبنانی صدر کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیں گے اور انہیں یقین ہے کہ بات چیت جلد آگے بڑھے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے بیروت کے ساتھ ایک ’تاریخی موقع‘ ہے، تاہم اسرائیل نے یہ بھی واضح کیا کہ سیکیورٹی کے پیش نظر کارروائی کا حق برقرار رہے گا۔