ایران کا لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کا خیر مقدم

جہازوں کی آمد و رفت ایران کے طے کردہ راستے پر ہوگی، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 08:37pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد ’آبنائے ہرمز‘ کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کے حوالے سے انتہائی مثبت اور اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہےاور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل آزاد ہے‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’دو لاجواب شخصیات‘ کہہ کر مخاطب کیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر نے اپنے بیانات میں نیٹو کی مدد کی پیشکش کو ٹھکرایا ہے، وہیں خلیجی ممالک کی تعریف اور اسرائیل کو لبنان پر مزید بمباری کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔

ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد نیٹو نے اُن سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی ہے تاہم انہوں نے اس پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ صرف کاغذی شیر ہیں جو ضرورت کے وقت کام نہیں آئے۔

جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے رابطے کے بعد 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل تاہم امریکا اور اسرائیل نے لبنان میں جاری کارروائیوں کو امریکا-ایران جنگ بندی سے مستثنیٰ قرار دیا تھا جس کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان میں جنگ بندی کو بنیادی شرط قرار دیا تھا، ۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ کسی بھی دشمن ملک کے جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان نے اس تمام عرصے میں خطے میں استحکام اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں اور بالاخر امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو سیز فائر پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے 8 اپریل کو دو ہفتے کے سیز فائر کا اعلان کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد اس سیز فائر کو جنگ کے مستقل خاتمے میں تبدیل کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔

اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔