ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر محمد نواز کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران سیمپل اے مثبت، قومی کرکٹ نے کا الزام مسترد کردیا
اپ ڈیٹ 22 اپريل 2026 03:42pm

قومی کرکٹر محمد نواز کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے معاملے پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کھلاڑی نے سیمپل اے کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ ٹیسٹ کے لیے سیمپل بی جمع کرا دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آل راؤنڈرمحمد نواز کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر باضابطہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس معاملے سے پی سی بی کو آگاہ کیا، جس کے بعد بورڈ نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔

رپورٹس کے مطابق محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران لیا گیا تھا، جس میں سیمپل اے مثبت آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی آج اس حوالے سے اپنی ابتدائی رپورٹ آئی سی سی کو بھجوا سکتا ہے، تاہم آئی سی سی نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

دوسری جانب محمد نواز نے سیمپل اے کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے ورلڈ کپ کے دوران کسی غیر قانونی دوا کا استعمال نہیں کیا۔ قریبی ذرائع کے مطابق کھلاڑی نے سیمپل بی کے لیے دوبارہ ٹیسٹ بھی کرا دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیمپل بی کی رپورٹ 30 اپریل تک آنے کا امکان ہے، جو کیس میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سیمپل اے کی رپورٹ میں غلطی کا امکان بھی زیر غور ہے، جس کے باعث دوسرا ٹیسٹ کروایا گیا۔

ادھر رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمد نواز کا انگلش کاؤنٹی کلب کے ساتھ معاہدہ بھی منسوخ ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قواعد و ضوابط کے تحت آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔