ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کیوں کی؟ اسلام آباد مذاکرات اور وائٹ ہاؤس کی اندرونی کہانی

پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی بڑھانے پر قائل کیا۔
شائع 22 اپريل 2026 12:14pm

واشنگٹن میں منگل کی سہ پہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک انتہائی اہم میٹنگ کی جس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف جنگ بندی کی آخری مہلت ختم ہونے کے قریب تھی اور دوسری طرف نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اینڈریوز ایئر بیس پر تیار کھڑا تھا تاکہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو سکیں۔

لیکن امریکی انتظامیہ کو ایک عجیب مشکل کا سامنا تھا اور وہ تھی ایرانیوں کی طرف سے مکمل خاموشی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اس معاملے سے واقف تین حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے چند روز پہلے ایران کو معاہدے کے کچھ بنیادی نکات بھیجے تھے جن پر مذاکرات سے پہلے اتفاق ضروری تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تہران سے کوئی جواب نہیں آیا جس کی وجہ سے یہ شک پیدا ہوا کہ وینس کا پاکستان جانا کتنا سود مند ثابت ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تو اس وقت تک بھی ایران کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔

پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی بڑھانے پر قائل کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گزارش کی تھی کہ وہ جے ڈی وینس کی روانگی سے پہلے ایرانیوں سے کسی قسم کا کوئی ردعمل حاصل کریں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات ہیں اور پاکستانی ثالثوں کی رپورٹس بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

دوسری طرف ایرانی حکام کے تیور بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہارنے والا فریق اپنی شرائط نہیں منوا سکتا اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب صرف فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔

سی این این نے دعویٰ کیا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ یورینیم کی افزودگی اور اس کے ذخیرے کے حوالے سے مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں، جو کہ امن مذاکرات کا سب سے بڑا تنازع ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک الجھن یہ بھی ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے ماتحتوں کو واضح ہدایات دے رہے ہیں یا انہیں صرف اندازوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔

ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اس میں توسیع کا انتخاب کیا، لیکن اس بار انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ اب بھی جنگ کا سفارتی حل چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی غیر مقبول جنگ کو دوبارہ چھیڑنے سے کترا رہے ہیں جس کے بارے میں وہ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا جیت چکا ہے۔

تاہم مذاکرات میں تعطل ان مشکلات کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کو اپنی متعدد شرائط منوانے میں پیش آ رہی ہیں۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے نئے دور سے پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ نے دوٹوک جواب دیا ہے کہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہوتا، ہم یہ راستہ نہیں کھولیں گے۔

انہوں نے امریکی نیوز چینل ’سی این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو نہیں کھولیں گے جب تک کہ ہمارے پاس ایک حتمی ڈیل نہ ہو۔

آخر کار ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی تجویز سامنے نہیں آ جاتی اور بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی۔

صدر ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ دباؤ کم کرنے سے ایران مذاکرات کو طول دے سکتا ہے تاکہ وہ جنگ کے دوران چھپائے گئے اپنے میزائل سسٹمز کو دوبارہ فعال کر سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان اب بھی یورینیم کی افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر کلیدی نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔ ٹرمپ ایسا کوئی معاہدہ نہیں چاہتے جسے اوباما دور کے ایٹمی معاہدے جیسا کمزور قرار دیا جا سکے، بلکہ وہ اپنی مذاکراتی مہارت کے ذریعے ایک ’بہترین ڈیل‘ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ ہم ان کی بحریہ، فضائیہ اور ان کے رہنماؤں کا خاتمہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس سے معاملات تھوڑے پیچیدہ ضرور ہو گئے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ایران اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتا ہے یا نہیں۔