مستقبل میں بڑے تنازع کی راہ روکنے کی کوشش، سیز فائر کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان مستقل معاہدے کے لیے پاکستان سرگرم
پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے وہ دیرپا اور مستحکم ہو۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی اسلام آباد میں نمائندہ کمبرلی ہیلکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی درخواست پر ہی امریکی صدر نے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا بلکہ اسے کسی حتمی تاریخ کے بغیر کھلا چھوڑ دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کے لیے بھرپور وقت مل سکے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سفارتی کوششیں صرف جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے آخری لمحات تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی قیادت مسلسل دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پوری قوت سے جاری ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت وزیراعظم پاکستان اور ایرانی سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو امریکا کی جانب سے دیے گئے امن کے ڈھانچے کو ایرانی حکام تک پہنچا رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
کمبرلی کے مطابق، پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ اس وقت فریقین کے درمیان براہِ راست رابطوں کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کا محور یہ ہے کہ ایران اور امریکا ایک ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بڑے تنازع کی راہ روک سکے۔
انہوں نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے صدر ٹرمپ کو قائل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے جس سے جنگ کے بادل فی الحال چھٹ گئے ہیں۔
گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک میں صدر ٹرمپ نے اپنی دفاعی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی، کیونکہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی تھی اور نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا۔
امریکی انتظامیہ کو اس وقت شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کی جانب سے خاموشی برقرار رہی اور مذاکرات کے لیے بھیجے گئے بنیادی نکات پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
امریکی حکام نے پاکستان کے اعلیٰ ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطہ کیا تاکہ نائب صدر کی روانگی سے قبل ایرانیوں کا کوئی ردعمل حاصل کیا جا سکے، لیکن کافی انتظار کے بعد بھی کوئی جواب نہ آیا۔
امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ ایران میں اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا کہ یورینیم کی افزودگی اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں۔
اس پیچیدہ صورتحال میں صدر ٹرمپ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے جنگ بندی میں توسیع کر دی تاکہ سفارتی راستہ کھلا رہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات میں سختی نظر آتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول ایران کی فوجی طاقت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔
اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔















