امریکا میں سزائے موت کے نئے طریقے: فائرنگ اسکواڈ، گیس اور بجلی کے جھٹکے بھی استعمال کیے جائیں گے
امریکا میں سزائے موت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ سنگین وفاقی جرائم میں ملوث مجرموں کو سزا دینے کے لیے نئے متبادل طریقے شامل کیے جائیں گے۔ ان طریقوں میں فائرنگ اسکواڈ، بجلی کے جھٹکے اور گیس کے ذریعے ہلاک کرنا شامل ہیں۔
یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ مہلک انجکشن کے لیے درکار ادویات کی دستیابی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ اعلان امریکی محکمہ انصاف کی ایک رپورٹ میں کیا گیا، جو ٹرمپ کے اس وعدے کے تحت تیار کی گئی ہے کہ وہ اپنی دوسری مدت میں وفاقی سطح پر سزائے موت کو دوبارہ فعال کریں گے۔ جس میں انہوں نے اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران وفاقی سطح پر سزائے موت کے عمل کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
اس سے قبل 2021 میں اپنی پہلی مدت کے اختتام پر بھی انہوں نے بیس سالہ وقفے کے بعد وفاقی سزائے موت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا تھا جس کے دوران 13 قیدیوں کو زہریلے انجکشن کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے عائد کردہ سزائے موت پر پابندی ختم کر دی۔ اس وقت محکمہ انصاف ملک بھر میں 40 سے زائد افراد کے خلاف سزائے موت کے مقدمات چلانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ابھی تک کسی کیس کا ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔
محکمہ انصاف کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائیڈن دور کی پابندی نے سزائے موت کے نظام کو کمزور کیا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف سے محروم رکھا۔ رپورٹ میں جیل حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے قانونی طریقے شامل کریں جو پہلے سے کچھ ریاستوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جیسے فائرنگ اسکواڈ اور الیکٹرک چیئر، جبکہ گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کا نیا طریقہ بھی شامل کیا جا رہا ہے جسے حال ہی میں الاباما میں متعارف کرایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق متبادل طریقوں کو شامل کرنے سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ اگر مخصوص دوا دستیاب نہ ہو تو بھی سزائے موت پر عملدرآمد ممکن رہے۔
دوسری جانب بائیڈن نے اپنے دور میں وفاقی سزائے موت کے منتظر 40 میں سے 37 قیدیوں کی سزائیں کم کر دی تھیں، جبکہ تین افراد اب بھی سزائے موت کے منتظر ہیں۔ ان میں بوسٹن میراتھن بم دھماکے، ایک چرچ میں فائرنگ، اور پٹسبرگ کی عبادت گاہ میں حملے کے مجرم شامل ہیں۔
امریکا ان چند مغربی ممالک میں شامل ہے جہاں سزائے موت اب بھی رائج ہے، لیکن عوامی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 52 فیصد امریکی قتل کے مقدمات میں سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں، جو پچاس سالوں میں سب سے کم شرح ہے، جبکہ 44 فیصد اس کے خلاف ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے خلاف اپیلوں کا عمل طویل ہوتا ہے اور قیدی کئی سال تک عدالتوں میں اپنے کیس لڑتے رہتے ہیں۔ اکثر نئے طریقوں کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وہ آئین کے تحت ’ظالمانہ اور غیر معمولی سزا‘ کے زمرے میں آتے ہیں، تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اب تک کسی طریقے کو غیر آئینی قرار نہیں دیا۔
مہلک انجکشن اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے، لیکن اس میں کئی بار ناکامیاں بھی سامنے آئی ہیں، جیسے قیدی کی رگ تلاش کرنے میں مشکلات۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض کیسز میں قیدیوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادویات کی فراہمی میں مشکلات بھی ایک بڑی وجہ ہیں، کیونکہ کئی دوا ساز کمپنیاں سزائے موت میں استعمال ہونے والی ادویات فراہم کرنے سے انکار کر دیتی ہیں، خاص طور پر یورپی قوانین کی وجہ سے۔ اس کے نتیجے میں کچھ ریاستیں دوبارہ پرانے طریقوں کی طرف لوٹ رہی ہیں۔
ان نئے اقدامات پر انسانی حقوق کے حامیوں نے تنقید کی ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین کی نمائندہ کاسنڈرا اسٹبس نے کہا کہ یہ طریقے غیر ضروری تکلیف اور ظلم کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح سینیٹر ڈک ڈربن نے سزائے موت کو غیر انسانی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ہاتھوں قتل انصاف نہیں بلکہ تاریخ پر ایک داغ ہے۔













