ٹرمپ کی پوسٹ میں بھارت جہنم کا گڑھا قرار، بھارتی وزارتِ خارجہ کا سخت ردعمل

کانگریس اور بھارت بھر میں ٹرمپ کی پوسٹ پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا
شائع 24 اپريل 2026 01:30pm

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارت سے متعلق پوسٹ کرنے پر نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، جس پر بھارتی حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اُن کے بیانات کو بے بنیاد اور نامناسب قرار دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب امریکی قدامت پسند کمنٹیٹر مائیکل سیویج کے ریڈیو شو دی سیوج نیشن کی ایک قسط میں بھارت اور چین سمیت دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے بارے میں سخت تبصرے کیے گئے۔

مائیکل سیویج نے کہا کہ یہاں بچہ پیدا ہوتے ہی شہری بن جاتا ہے، اور پھر چین یا بھارت جیسے کسی جہنم جیسے ملک سے پورے خاندان کو یہاں لایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آج کے تارکین وطن میں امریکا سے وفاداری کم ہے اور وہ یورپی نژاد امریکیوں سے مختلف ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مائیکل سیویج سے فوری طور پر رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔

صدر ٹرمپ نے یہ ٹرانسکرپٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جمعرات کو شیئر کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے امریکا میں پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا، جسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں وہ اس معاملے پر ہونے والی سماعت میں بھی شریک ہوئے تھے۔

اس معاملے پر بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی رات ان ریمارکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات واضح طور پر غیر مناسب ہیں۔

ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ریمارکس بھارت اور امریکا کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، جو طویل عرصے سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے اس حوالے سے مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے کہا ہے کہ بھارت ایک عظیم ملک ہے جس کے سربراہ کے ساتھ ان کی بہت اچھی دوستی ہے۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس بیان کو انتہائی توہین آمیز اور بھارت مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر بھارتی کو تکلیف پہنچاتا ہے۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اب تک خاموش کیوں ہیں، اُنہیں یہ معاملہ امریکی صدر کے سامنے اٹھانا چاہیے اور سخت احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں تقریباً 5.5 ملین بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جبکہ بھارتی اور چینی نژاد امریکی ایشیائی برادری کے دو بڑے گروہ ہیں۔

ادھر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان پہلی مدتِ صدارت میں تعلقات خوشگوار رہے تھے، تاہم گزشتہ برس بھارت پر بعض بلند امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد تعلقات میں سرد مہری آئی، جن میں سے کئی ٹیرف بعد ازاں اس سال واپس لے لیے گئے۔

دونوں ممالک اس وقت ایک تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد نئے ٹیرف کے اضافے کو روکنا اور باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔