اے سی والا کمرہ آپ کے گردوں میں پتھری پیدا کر رہا ہے
جیسے جیسے درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، ڈاکٹروں نے ایک ایسی خاموش بیماری کی نشاندہی کی ہے جو اب صرف دھوپ میں کام کرنے والوں تک محدود نہیں رہی اور وہ ہے ’گردے کی پتھری‘۔
یہ بیماری پہلے صرف پانی کی کمی اور شدید پسینے سے جوڑی جاتی تھی، اب ان لوگوں کو بھی اپنا شکار بنا رہی ہے جو اپنا سارا وقت ایئر کنڈیشنڈ دفاتر یا گھروں میں گزارتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب یہ بیماری صرف کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں زیادہ وقت گزارنے والے لوگ بھی اس کے خطرے کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ ماحول اگرچہ ٹھنڈک فراہم کرتا ہے اور ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے سے انسان ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رہتا ہے، مگر یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔
اے سی ہوا سے نمی کو ختم کردیتا ہے، جس سے جسم سے پانی کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔
ٹھنڈک کی وجہ سے انسان کو پسینہ نہیں آتا اور پیاس بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن اندرونی طور پر جسم پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق سینئر یورولوجسٹ ڈاکٹر دیپک راگوری کا کہنا ہے کہ ”جب پیشاب میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے، تو کیلشیم، آکسالیٹ اور یورک ایسڈ جیسے معدنیات کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو چند ہی دنوں میں پتھری بن سکتے ہیں۔“
ماہرین کے مطابق گرمیوں میں یہ خطرہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ لوگ پانی کے بجائے چائے، کافی یا میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جو جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ نمکین لسی یا زیادہ نمک والا پانی بھی بعض صورتوں میں کیلشیم کی مقدار بڑھا کر پتھری کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اسی طرح آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں جیسے پالک، چقندر، خشک میوہ جات اور چاکلیٹ بھی خطرہ بڑھا سکتی ہیں، اگر پانی کی مقدار مناسب نہ ہو۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سب سے آسان بچاؤ کا طریقہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔ عام طور پر دن بھر میں کم از کم ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضروری ہوتا ہے، جبکہ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑھانی چاہیے۔
دفاتر میں کام کرنے والے افراد اکثر کام کے دباؤ یا اسکرین میں گم ہونے کی وجہ سے پانی پینا بھول جاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں اور ہر ایک گھنٹے بعد پانی پینے کا الارم لگائیں۔
پانی کے علاوہ ناریل پانی اور لیموں پانی کا استعمال کریں، جو گردوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لیموں پانی صرف پیاس نہیں بجھاتا، بلکہ اس میں موجود سائٹریٹ گردے کی پتھری بننے کے عمل کو قدرتی طور پر روکتا ہے۔
یہ پیشاب میں موجود کیلشیم کے ساتھ مل کر اسے کرسٹل بننے سے روک دیتا ہے۔ اگر آپ اے سی میں بیٹھے ہیں، تو سادہ پانی میں لیموں کے چند قطرے شامل کرنا پتھری کے خلاف ایک ڈھال بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نمک، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈز کے زیادہ استعمال سے پرہیز ضروری ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کیلشیم کو مکمل طور پر غذا سے ختم کرنا درست نہیں۔ کیلشیم چھوڑنے سے پتھری کا خطرہ الٹا بڑھ سکتا ہے، اس لیے متوازن خوراک ہی گردوں کی صحت کے لیے بہتر ہے۔
ایسے افراد جنہیں پہلے پتھری ہو چکی ہے، انہیں گرمیوں میں زیادہ محتاط رہنے اور باقاعدگی سے چیک اپ کروانے کی ضرورت ہے۔
















