ذہنی صحت کی آگاہی فائدے کے ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے، نئی تحقیق
ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو اپنے مسائل پر بات کرنے، مدد حاصل کرنے اور خود کو تنہا محسوس نہ کرنے میں مدد دی ہے، بہت سے لوگوں کو اپنے مسائل بیان کرنے اور مدد لینے کا حوصلہ دیا ہے، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں پر۔
امریکی ماہر نفسیات مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے کبھی کبھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر ذہنی صحت سے متعلق ویڈیوز اور معلومات بار بار دیکھنے سے لوگ اپنے عام جذبات کو بھی بیماری سمجھنے لگتے ہیں۔
ان کے مطابق، ’لوگ معمولی اداسی، دباؤ یا گھبراہٹ کو بھی مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں، جو کہ زندگی کا عام حصہ ہے۔‘
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک نوجوان سوشل میڈیا پر ذہنی دباؤ کی علامات سے متعلق کوئی ویڈیو دیکھتا ہے اور ان علامات کو اپنے روزمرہ کے معمولات سے جوڑنے لگتا ہے تو وہ غیر محسوس طریقے سے خود کو بیمار سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر وقت اپنے خیالات اور احساسات پر نظر رکھنے لگتا ہے، جس سے اس کی پریشانی اور بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص خود کو کسی مسئلے کا شکار سمجھنے لگتا ہے، تو اس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خود کو اینزائٹی کا مریض سمجھ لے، تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا کم کر سکتا ہے، جس سے مسئلہ اور بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق میں تین اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آگاہی مہمات کی وجہ سے ذہنی امراض کی تعریف اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ روزمرہ کی عام پریشانی، اداسی یا گھبراہٹ کو بھی لوگ سنگین بیماری سمجھنے لگے ہیں۔
دوسرا یہ کہ لوگ ہر وقت اپنے خیالات اور جذبات کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگتے ہیں جس سے وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے بارے میں بھی حساس ہو جاتے ہیں اور یہ عمل سکون دینے کے بجائے بے چینی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی خاص بیماری کا لیبل خود پر لگا لیتا ہے تو اس کا رویہ بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی خود کو ذہنی دباؤ کا شکار سمجھ لے تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے جس سے اس کا وہ فرضی مسئلہ حقیقت بننے لگتا ہے۔
ان کے مطابق اس حوالے سے شواہد بھی کافی ہیں۔ یہ جاننا کہ تنہائی نقصان دہ ہے، اکیلے رہنے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ جاننا کہ دباؤ نقصان دہ ہے، انسان کی کارکردگی اور ذہنی حالت کو مزید خراب کر دیتا ہے۔
یہاں تک کہ فرضی بیماریوں جیسے ”ونڈ ٹربائن سنڈروم“ کے بارے میں آگاہی ویڈیوز بھی لوگوں میں حقیقی سر درد پیدا کر دیتی ہیں۔ اسی طرح ”ٹرگر وارننگز“ پریشانی کو کم کرنے کے بجائے پہلے سے بے چینی بڑھا دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا اور اسکولوں میں چلائے جانے والے تعلیمی پروگرام بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے لیکن کبھی کبھی یہ پروگرام عام انسانی جذبات اور طبی لحاظ سے سنگین امراض کے درمیان فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔
اس کے باوجود ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی صحت کی آگاہی کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نے بہت سے لوگوں کو مدد لینے کی ہمت دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں توازن ضروری ہے۔
مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کا موقف ہے کہ آگاہی کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہونا چاہیے کہ انہیں کب واقعی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اپنے ہر چھوٹے بڑے احساس پر شک کرنا شروع کر دیں۔ ماہرین کے مطابق ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر طرح کی اداسی یا تناؤ کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ زندگی کا ایک نارمل حصہ ہے۔
















