'آبنائے ہرمز میں مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی': ایران کی امریکی آپریشن کے اعلان پر وارننگ

امریکا کو ایک ناممکن فوجی آپریشن اور ایران کے ساتھ ایک کڑی ڈیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: ایران
شائع 04 مئ 2026 08:51am

ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

پیر کے روز ایران کی جانب سے یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بلاک شدہ بحری راستے سے جہازوں کو نکالنے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام ٹرمپ کے بیانات سے نہیں چلے گا اور امریکی مداخلت کی صورت میں جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس بحری آپریشن کو ایک انسانی ہمدردی کا اقدام قرار دیا تھا تاکہ ان جہازوں اور عملے کو نکالا جا سکے جن کے پاس خوراک اور دیگر ضروری سامان ختم ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ان جہازوں اور عملے کو بحفاظت نکالنے کی بہترین کوشش کریں گے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے نمائندے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کر رہے ہیں جو سب کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر اس عمل میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ ڈالی گئی تو اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی قیادت اور عسکری حکام کا لہجہ کافی سخت ہے، ایرانی پاسداران انقلاب نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایک ناممکن فوجی آپریشن اور ایران کے ساتھ ایک کڑی ڈیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے مزید سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کا واحد قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، اور ہم ان جہازوں کو غرق کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا امریکا اپنے جہازوں کے قبرستان کے لیے تیار رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سمندری راستہ مزید بند رہتا ہے تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سابق امریکی بحری افسر ہارلن المین نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر دنیا کی 20 فیصد توانائی کی برآمدات مزید رکی رہیں تو یہ ایک عالمی معاشی تباہی ہوگی اور امریکا میں پیٹرول کی قیمت 8 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ آیا ایران ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔

اس دوران امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ بحری محاصرہ ایرانی حکومت کا معاشی گلا گھونٹنے کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہ رہیں۔