متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے، فجیرہ کی تیل تنصیبات میں آگ لگ گئی

فجیرہ میں حملے کے نتیجے میں 3 بھارتی شہری بھی زخمی ہوئے: فجیرہ میڈیا آفس
اپ ڈیٹ 04 مئ 2026 11:42pm
فجیرہ آئل انڈسٹری زون (رائٹرز فائل فوٹو)
فجیرہ آئل انڈسٹری زون (رائٹرز فائل فوٹو)

متحدہ عرب امارات کے مشرقی حصے امارتِ فجیرہ میں واقع ایک اہم پیٹرولیم صنعتی سائٹ پر ڈرون حملے کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے، جس کی تصدیق مقامی میڈیا آفس اور حکام کی جانب سے کی گئی ہے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں جب کہ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر یو اے ای نے اپنی فضائی حدود بھی عارضی طور پر بند کر دی ہے۔

قطرکے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے امارت فجیرہ میں واقع پیٹرولیم صنعتی سائٹ پر ایک بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے واقعے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بارے میں مقامی میڈیا آفس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد پیش آیا۔

فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق صنعتی علاقے میں اچانک بڑی آگ بھڑک اٹھی، جس پر ایمرجنسی سروسز فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم صنعتی سائٹ پرآگ لگنے کی اطلاع ایسے وقت سامنے آئی جب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائلوں میں سے تین کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور ایک سمندر میں جا گرا تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں تین بھارتی شہری بھی زخمی ہوئے جنھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ صورتِ حال کی سنگینی کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاکہ فضائی آپریشنز کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔

سی این این‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بیان میں ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی تہران پر ہی ہوگی۔

قبل ازیں، الجزیرہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی ایک نیا میزائل الرٹ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے۔

امارتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال حساس ہے اور مزید معلومات ملنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا، جب کہ سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابتدائی طور پر انہیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر، یو اے ای کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کا فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل حملوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں دراصل بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے دوران پیدا ہو رہی ہیں۔

یو اے ای کی وزارتِ تعلیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں، نرسریوں اور تعلیمی و انتظامی عملے کے لیے عارضی طور پر ریموٹ لرننگ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ منگل 5 مئی 2026 سے جمعہ 8 مئی 2026 تک نافذ رہے گا، جس کا مقصد طلبہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتِ حال کا ازسرنو جائزہ جمعہ 8 مئی 2026 کو لیا جائے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ وزارتِ تعلیم کے مطابق یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا ہے تاکہ موجودہ حالات میں تعلیمی سرگرمیاں محفوظ طریقے سے جاری رکھی جا سکیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا کی کارگو کمپنی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمزمیں جنوبی کوریا کے کارگو بحری جہاز میں آگ لگ گئی، متعلقہ بحری جہاز اماراتی شہر شارجہ سے تقریباً 70 کلو میٹر شمال مغرب میں لنگر انداز ہے، آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فجیرہ، جو آبنائے ہرمز کے قریب ایک اہم توانائی اور آئل ٹرانزٹ مرکز ہے، اس نوعیت کے واقعات سے عالمی توانائی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔