امریکا میں پہلی بار پھلوں کے ذائقے والے ای سگریٹس کی منظوری
امریکہ میں صحت کے امور کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پہلی بار بالغ سگریٹ نوشوں کے لیے پھلوں کے ذائقے والے الیکٹرانک سگریٹ یعنی ویپ کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ جسے ماہرین صحت اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ایک اہم پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل حکام نے برسوں تک ایسے ذائقوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو اس کی لت سے بچایا جا سکے۔
اس فیصلے کا فائدہ لاس اینجلس کی ایک کمپنی گلاس ان کو ہوا ہے جس کے مینگو، بلیو بیری اور مینتھول کے ذائقوں والے ویپس اب قانونی طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔
ایف ڈی اے کے بیان کے مطابق کمپنی ان مصنوعات کو ’گولڈ‘، ’سیفائر‘، ’کلاسک مینتھول‘ اور ’فریش مینتھول‘ کے ناموں سے مارکیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ویپنگ کی صنعت سے وابستہ لوگ طویل عرصے سے یہ دلیل دے رہے تھے کہ پھلوں کے ذائقے والے یہ آلات بالغ افراد کو روایتی سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، جو امریکہ میں کینسر اور دل کی بیماریوں جیسی وجوہات کی بنا پر سالانہ لاکھوں اموات کا باعث بنتی ہے۔
تاہم صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میٹھے ذائقے ہی وہ بنیادی وجہ ہیں جو کم عمر بچوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں۔
ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی پروڈکٹ کی منظوری یا توثیق نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان بالغ افراد کے لیے ایک متبادل ہے جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں۔
اس اجازت کے ساتھ سخت شرائط بھی وابستہ کی گئی ہیں تاکہ یہ مصنوعات بچوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ادارے کے مطابق، یہ مصنوعات صرف 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایف ڈی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ کمپنی کا ڈیجیٹل ایج ویریفکیشن سسٹم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کم عمر افراد تک ان مصنوعات کی رسائی مشکل ہو۔
کمپنی نے ایک ایسا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارف کو اپنے موبائل فون پر سرکاری شناختی کارڈ کے ذریعے اپنی عمر کی تصدیق کرنی ہوگی۔ تصدیق کے بعد ہی یہ ای سگریٹ بلوٹوتھ کے ذریعے فون سے منسلک ہو کر کام کر سکیں گے۔
تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ٹروتھ انیشیٹو کی نمائندہ کیتھی کروسبی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھلوں والے ان نئے ذائقوں کی اجازت ایک اہم آزمائشی کیس ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا، ’ہمیں نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا اور ان منظور شدہ مصنوعات کے استعمال پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔‘ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ اگر ان سے بچوں کے متاثر ہونے کی شرح بڑھی تو اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں نوعمر افراد میں ویپنگ کی شرح گزشتہ 10 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور میٹھے ذائقوں والے ای سگریٹس ماضی میں کم عمر صارفین کو زیادہ متوجہ کرتے رہے ہیں۔
امریکی حکومت کی مختلف پالیسیوں میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ویپنگ کی صنعت کو بچانے کا وعدہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے ای سگریٹ بنانے والی کمپنیوں اور دکان داروں نے ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔
ان کے دور میں پہلی بار فلیور پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں اور تمباکو خریدنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کی گئی تھی۔ جسے نوعمر ویپنگ میں کمی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔
اگرچہ گزشتہ دور حکومت میں ایف ڈی اے نے لاکھوں ایسی درخواستیں مسترد کی تھیں جن میں کینڈی یا پھلوں کے ذائقے شامل تھے، مگر اب نئی انتظامیہ کے تحت ترجیحات بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ میں ابھی بھی بہت سے غیر قانونی ویپس دستیاب ہیں, لیکن اس قانونی اجازت سے مقامی صنعت کو ایک نئی راہ ملنے کی توقع ہے۔
















