ایران کے شہر چابہار میں زوردار دھماکوں کی اطلاع

چابہار ایران کا اہم اسٹریٹجک پورٹ سٹی ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے
اپ ڈیٹ 10 مئ 2026 03:42pm

ایران کے جنوب مشرقی پورٹ شہر چابہار میں اتوار کو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی سنسنی پھیل گئی۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ یہ دھماکے کسی حملے یا شرانگیزی کا نتیجہ نہیں ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی خبر رساں ایجنسی ’مہر نیوز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ چابہار میں ہونے والے زور دار دھماکوں کی اصل وجہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ناکارہ اور نہ پھٹنے والے گولہ بارود کو تلف کرنے کی کارروائی تھی۔

ابتدائی اطلاعات میں دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں تھی، جس کے باعث سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم بعد ازاں ایرانی میڈیا نے اس معاملے پر وضاحت جاری کردی۔

واضح رہے کہ چابہار ایران کا ایک اہم اسٹریٹجک پورٹ سٹی ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور خطے میں تجارتی و دفاعی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل قطر کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز پر میزائل یا ڈرون سے حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔ ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق حملے کے بعد جہاز پر آگ لگ گئی۔

برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس واقعے کے فوری بعد ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے کی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے ساحلوں کے قریب جس بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ امریکا کی ملکیت ہے اور اس وقت امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔

فارس نیوز نے ایک باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نشانہ بننے والا بحری جہاز امریکی پرچم والا بلک کیریئر تھا اور اس کا تعلق براہ راست امریکا سے ہے۔

قطری وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اتوار کی صبح قطر کی سمندری حدود میں موجود ایک تجارتی کارگو جہاز پر ڈرون حملہ ہوا۔ حکام کے مطابق جہاز ابو ظبی سے آ رہا تھا کہ اس دوران اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق آگ پر بروقت قابو پالیا گیا، جس کے بعد جہاز نے اپنا سفر دوبارہ شروع کرتے ہوئے میسعید پورٹ کی جانب سفر جاری رکھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور تعاون بھی جاری رکھا گیا، تاہم واقعے میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔