پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات اتنی مہنگی کیوں ہیں؟ وزیرِ مملکت نے اصل حقیقت بتا دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں اہم انکشافات
شائع 11 مئ 2026 04:02pm

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی اصل وجہ پٹرولیم لیوی ہے، کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔

پیر کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔

اجلاس کے دوران وزیر مملکت نے بتایا کہ کچھ ممالک نے اپنے ہاں ٹیکسوں میں کمی کر کے قیمتیں نیچے لانے کی کوشش کی ہے لیکن پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت لیوی بڑھانا پڑی۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ جب بجٹ بنا تو آئی ایم ایف سے 80 روپے فی لیٹر لیوی طے تھی، مگر اب جنگ کے بعد کے حالات میں آئی ایم ایف کا ہدف ڈیزل اور پٹرول پر مجموعی طور پر 160 روپے لیوی وصول کرنا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ حکومت نے اوگرا کو قیمتوں کے فرق کی مد میں 129 ارب روپے ادا کر دیے ہیں اور اب ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد اوگرا نے مزید ادائیگیاں کرنی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسٹاک کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت فیصلے ضروری تھے اور حال ہی میں قطر، ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کی کوششوں سے پیٹرولیم مصنوعات کا جہاز پاکستان پہنچا ہے جس میں فیلڈ مارشل اور وزیراعظم سمیت سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

دورانِ اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو خام تیل کی قیمت محض 73 ڈالر فی بیرل تھی، مجھے یہ سمجھائیں کہ کیا صرف لیوی میں اضافہ ہوا یا کمپنیوں کو بھی اضافی منافع دیا گیا؟

انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ یکم مارچ اور پھر 7 مارچ کو اتنی جلدی قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اور پرانے اسٹاک پر قیمتوں کا فوری اطلاق کیوں کیا گیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایسا کام کرے جس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہو، اس لیے کمیٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ پیٹرولیم پر مجموعی ٹیکسز اور چارجز کتنے ہیں۔

کمیٹی کے اراکین نے ملک میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کر دیا۔

وزارت پیٹرولیم کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ یو اے ای میں قیمتیں 72 فیصد اور نیوزی لینڈ میں 88 فیصد تک بڑھیں۔

اجلاس میں بھارت کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں 19 سرکاری ریفائنریاں ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے 2022 میں قیمتیں فریز کر دیں تھی، جبکہ بنگلہ دیش اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے قرضے لے رہا ہے اور وہاں فوج ڈپوؤں کی نگرانی کر رہی ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ پرانا نظام ختم کر کے اب بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق نظام لایا گیا ہے اور حکومت اس وقت پیٹرول و ڈیزل کے بجائے خام تیل خریدنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے لیوی بڑھانا ضروری تھا، تاہم آج بھی موٹر سائیکل سواروں کو ای وائلٹ کے ذریعے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔