دفتر خارجہ کا امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بیان دیکھا ہے، یہ بیان سی بی ایس نیوز کی خبر کے فوری بعد جاری ہوا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وقت کے فرق کے باعث ہمارا بیان تھوڑا تاخیر سے جاری ہوا۔
طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے اور پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کا مؤقف انتہائی واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امن کی ان کوششوں کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں تناؤ کو کم کیا جا سکے۔
طاہر اندرابی کے مطابق سعودی عرب اور آسٹریا کے وزرائے خارجہ نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطے آسان بنانے کے لیے پاکستان کے اس تعمیری سفارتی کردار کو سراہا ہے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ اور علاقائی استحکام کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
تاہم ترجمان دفتر خارجہ نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ چین پاکستان پر ثالثی کے حوالے سے کوئی دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو دوستانہ ماحول میں ہوئی اور چین نے پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان نے بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، خاص طور پر سی بی ایس کی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور متعلقہ پروازیں صرف سفارتی عملے اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کے لیے تھیں، جن کا کسی فوجی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پاکستان نے عسکری یا بینکنگ نوعیت کی کسی بھی مشکوک سرگرمی کے دعوؤں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا کیونکہ تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔
پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔














