گھروں کے عام پودے میں چھپا ریاضی کا پیچیدہ راز، جسے کھوجنے میں صدیاں لگ گئیں
فطرت اپنے اندر ایسے گہرے قوانین چھپائے ہوئے ہے جنہیں سمجھنے میں انسان کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا۔ ایک حالیہ سائنسی انکشاف نے ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ کس قدر ایک خودکار الگورتھم کے تحت متحرک ہے۔
امریکا کے ممتاز تحقیقی ادارے ”کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری“ کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گھروں میں سجاوٹ کے لیے رکھا جانے والا عام سا پودا، چائنیز منی پلانٹ، جسے سائنسی دنیا میں پیلیا پیپرومائڈز کہتے ہیں، اپنے وجود میں ریاضی کا ایک ایسا شاہکار چھپائے ہوئے ہے جسے انسان نے طویل علمی ارتقا کے بعد ڈی کوڈ کیا تھا۔
یہ پودا، جسے لوگ اکثر خوش قسمتی اور محبت کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کو تحفے میں دیتے ہیں، دراصل اپنے پتوں کی ساخت میں ایک خاموش ریاضی دان کی طرح کام کر رہا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق، اس پودے کے پتے خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاص ہندسوں یا حساب کا اصول استعمال کرتے ہیں،سائنسدانوں نے ان پوائنٹس اور رگوں کا تفصیلی نقشہ بنایا، تو انہوں نے دیکھا کہ یہ ساخت بڑی کیلکولیٹڈ اور حیران کن تھی جسے ریاضی کی اصطلاح میں ورونوئی ڈایاگرام کہا جاتا ہے۔
انسانی دنیا میں یہ نظام کوئی معمولی چیز نہیں ہے، ہم اسے بڑے شہروں کی جدید ترین منصوبہ بندی، پیچیدہ کمپیوٹر نیٹ ورکس اور خلائی ریاضی میں استعمال کرتے ہیں۔
اس نظام کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی مخصوص جگہ کو مختلف حصوں میں اس طرح تقسیم کرتا ہے کہ ہر حصہ اپنے ایک مرکزی نقطے سے جڑا رہتا ہے۔ اس کی سادہ ترین مثال اسکولوں کے اضلاع کی ہے، جہاں شہر کی حدود کو اس طرح غیر مرئی خطوط سے تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہر محلے کا بچہ اپنے قریب ترین اسکول تک آسانی سے پہنچ سکے۔ انسان کو اس منطقی حل تک پہنچنے میں صدیاں لگیں، مگر چائنیز منی پلانٹ یہ کارنامہ بغیر کسی پیمائشی آلے یا شعوری دماغ کے، محض اپنے فطری وجود سے انجام دے رہا ہے۔
اگر ہم اس پودے کے پتے کا گہرائی سے مشاہدہ کریں، تو اس کے پتے پر چھوٹے چھوٹے مسام نظر آتے ہیں جنہیں ہائیڈاتھوڈز کہا جاتا ہے۔ یہ مسام عام آنکھ سے باریک نقطوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، جن کے ذریعے پودا اپنے اندر کا اضافی پانی باہر نکالتا ہے۔ ان مساموں کے ارد گرد رگوں کا ایک انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت جال بچھا ہوتا ہے جو پورے پتے کو زندگی بخشنے کے لیے پانی اور غذائیت فراہم کرتا ہے۔
جب محققین نے ان مساموں اور رگوں کے باہمی تعلق کا سائنسی نقشہ تیار کیا، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ یہ ڈھانچہ سو فیصد ورونوئی ڈایاگرام کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ رگوں کا ہر چھوٹا نیٹ ورک اپنے قریبی ترین مسام کو سب سے زیادہ مؤثر اور کم سے کم وقت میں خوراک پہنچانے کے لیے خود کو ترتیب دیتا ہے۔
اس دریافت پر روشنی ڈالتے ہوئے، کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کی محقق سی سی زینگ کہتی ہیں کہ جس طرح انسانوں کو بقا کے لیے اپنے مسائل حل کرنے پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح کائنات کے دوسرے جاندار بھی اپنے وجود کی جنگ لڑتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ انسان فاصلوں کو ناپنے کے لیے پیمانے استعمال کرتا ہے، جبکہ پودے کسی بیرونی آلے کے محتاج نہیں ہوتے۔
وہ اس پیچیدہ ریاضیاتی حل تک پہنچنے کے لیے صرف اپنے اندرونی اور لوکل بائیالوجیکل انٹرایکشنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پیٹرن کے پیچھے موجود حیاتیاتی راز کو جاننے کے لیے تحقیقی ٹیم نے پودوں کی رگوں کے عالمی ماہر، پروفیسر پرزیمیسلاو پروسینکیوِچ کی خدمات حاصل کیں۔
پروفیسرپروسینکیوِچ کا کہنا ہے کہ پودوں کے وجود کا اس قدر ریاضیاتی ہونا حیرت انگیز ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پودوں میں رگوں کے بننے کا یہ معمہ دہائیوں سے حل طلب تھا، جس کا اب ایک منطقی اور حیاتیاتی جواب سامنے آ چکا ہے۔
یہ تحقیق دراصل سائنس کے اس وسیع تر فکری شعبے کو تقویت دیتی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جاندار چیزیں بغیر کسی مادی دماغ، نقشے یا شعور کے، محض سادہ حیاتیاتی رابطوں کے ذریعے اتنے بڑے اور پیچیدہ مسائل کیسے حل کر لیتی ہیں۔
اس مطالعے کے سینئر مصنف اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ساکت نولکھا کا ماننا ہے کہ یہ دریافت کلاسیکل جیومیٹری، ماڈرن پلانٹ بائیولوجی اور کمپیوٹر سائنس کا ایک حسین سنگم ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ قدرت کے ان پوشیدہ اور خودکار طریقوں یعنی الگورتھم کا گہرا مطالعہ مستقبل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ریاضی کے آفاقی اصول کس طرح زندگی کی تشکیل، اس کے ارتقا اور پوری کائنات کے ڈیزائن کو ترتیب دیتے ہیں۔
















