امریکا میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں عراقی شہری گرفتار
امریکا نے ایران نواز عراقی مسلح گروپ کے ایک مبینہ کمانڈر کو دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم یورپ، کینیڈا اور امریکا میں کم از کم 18 حملوں اور حملوں کی کوششوں میں ملوث رہا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق عراقی شہری محمد باقر سعد داؤد السعدی کو نیویارک کی مین ہیٹن وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس پر دہشتگردی سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے گئے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 32 سالہ محمد باقر السعدی ایران نواز عراقی گروپ کتائب حزب اللہ کا سینئر رکن ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تعلقات ایرانی پاسدارن انقلاب سے ہیں۔
امریکی عدالت میں دائر شکایت کے مطابق السعدی اور اس کے ساتھیوں نے یورپ میں کم از کم 18 جبکہ کینیڈا میں 2 حملوں کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور ذمہ داری قبول کی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے یا ان کا مقصد امریکا اور اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنے پر مجبور کرنا تھا۔
کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ایف بی آئی نے السعدی کو گرفتار کرکے امریکا منتقل کیا۔ انہوں نے ملزم کو ’’عالمی دہشتگردی میں ملوث ہائی ویلیو ٹارگٹ‘‘ قرار دیا۔
عدالت میں السعدی پر چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں دہشتگرد تنظیموں کو معاونت فراہم کرنے کی سازش، دہشتگرد کارروائیوں میں مدد اور عوامی مقامات پر بم حملوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
ملزم کے وکیل اینڈریو ڈیلک کے مطابق محمد باقر السعدی کو پہلے ترکیہ میں حراست میں لیا گیا، بعد ازاں اسے امریکی حکام کے حوالے کیا گیا۔













