کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس پھیلنے سے 80 افراد ہلاک، الرٹ جاری

ایبولا وائرس کی نئی لہر نے پڑوسی افریقی ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی
شائع 17 مئ 2026 02:40pm

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلتے ہوئے کیسز کے باعث ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ یہ وبا فی الحال عالمی سطح کی نہیں، تاہم دونوں ملکوں سے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے باعث وائرس کے پڑوسی ممالک میں منتقل ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا ایبولا کی ایک نایاب قسم ’بنڈی بوگیو وائرس‘ کی وجہ سے پھیلی ہے، عام ایبولا وائرس کے برعکس اس قسم کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ ادارے کے مطابق یہی وجہ اس وبا کو غیرمعمولی اور تشویش ناک بناتی ہے۔

کانگو کی وزارتِ صحت اور ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق، ہفتے تک کانگو کے مشرقی صوبے اِتوری کے تین مختلف ہیلتھ زونز (بونیا، روامپارا اور مونگبوالو) میں کم از کم 80 مشتبہ ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ لیبارٹری سے 8 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 246 مریضوں میں وائرس کی علامات مشتبہ ہیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ابتدائی ٹیسٹس میں وائرس کے مثبت آنے کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے جب کہ مشتبہ کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

افریقی ملک کانگو میں یہ ایبولا کا 17واں بڑا پھیلاؤ ہے۔ اسی ملک میں پہلی بار 1976 میں ایبولا وائرس کی شناخت ہوئی تھی۔ ماضی میں کانگو میں سامنے آنے والی تقریباً تمام وبائیں ’زئیر‘ قسم کے ایبولا وائرس سے جڑی تھیں، تاہم اس بار ’بُنڈی بوگیو‘ وائرس سامنے آیا ہے، جو صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ایبولا ایک انتہائی مہلک وائرس ہے جس کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم کا درد، قے اور اسہال شامل ہیں۔ یہ وائرس ہوا کے بجائے متاثرہ افراد کی جسمانی رطوبتوں، ان کے زیرِ استعمال آلودہ اشیاء یا اس بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے ذریعے صحت مند انسانوں تک منتقل ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وبا کے بین الاقوامی سطح پر پھیلنے کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں دو ایسے افراد میں ایبولا کی تصدیق ہوئی جو کانگو سے سفر کر کے آئے تھے، جن میں سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ہے۔

اسی طرح کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں بھی ایک ایسے شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی جو کانگو سے واپس آیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک بالخصوص افریقی ملکوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے کہ وہ اپنی ہنگامی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ مشینری فوری فعال کریں، سرحدی نگرانی سخت بنائیں اور اہم داخلی شاہراہوں پر اسکریننگ کے انتظامات بھی یقینی بنائیں۔