ایران جنگ کے اثرات، بھارت میں ایل پی جی بحران، بلیک مارکیٹ میں سلنڈر مہنگے

رپورٹ کے مطابق مختلف علاقوں میں بھارتی شہری گیس سلنڈر کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔
شائع 18 مئ 2026 05:29pm

ایران کے گرد بڑھتی جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے بھارت میں کھانا پکانے والی گیس، یعنی ایل پی جی، کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے، جب کہ اس کے اثرات اب عالمی ایندھن مارکیٹ تک پھیلنے لگے ہیں۔ صورتِ حال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ کئی بھارتی شہروں میں لوگ گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور ایل پی جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بھارت، جو اپنی 90 فی صد سے زائد ایل پی جی ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے پوری کرتا تھا، اچانک سپلائی بحران کا شکار ہو گیا۔

بھارتی حکومت نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے مقامی ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پیٹرول مصنوعات کے بجائے ایل پی جی کی پیداوار بڑھائیں تاکہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔ اسی پالیسی کے تحت ریفائنریوں نے ’الکائیلیٹس‘ نامی ایندھن جزو کی پیداوار کم کر دی، جو صاف پیٹرول بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

بھارت میں ایل پی جی بحران نے عام شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کئی علاقوں میں گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جب کہ بعض صارفین کو خالی ہاتھ واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیک مارکیٹ میں سلنڈر مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جب کہ ہوٹلوں، چھوٹے ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ افراد نے کاروبار بند ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق بھارت اس وقت گھریلو ضرورت کو اولین ترجیح دے رہا ہے، کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ گیس بحران مزید شدت اختیار کر گیا تو عوامی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس بحران کے عالمی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ بھارت کی جانب سے الکائیلیٹس کی برآمدات کم ہونے سے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وہاں پیٹرول کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے۔

بھارتی کمپنی ریلائنس، جو دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری چلاتی ہے، پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ ایل پی جی سپلائی بڑھانے کے لیے الکائیلیٹس کی پیداوار اور برآمدات کم کر رہی ہے۔ اپریل میں بھارت کی الکائیلیٹس برآمدات تقریباً نصف رہ گئیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ تصور کی جاتی ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی توانائی سپلائی چین کو غیرمعمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔