'60 سال بعد بھی لڑنا نہیں بھولا': سلمان خان اسپتال میں فوٹوگرافرز پر برہم

سوشل میڈیا پر ایک کے بعد ایک کئی پوسٹس شیئر کردیں۔
اپ ڈیٹ 20 مئ 2026 01:14pm

بولی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان ممبئی کے ایک ہسپتال میں فوٹوگرافرز کے پیچھا کیے جانے پر شدید غصے میں آ گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی سلمان خان ہسپتال کے گیٹ سے باہر نکلے، وہاں موجود فوٹوگرافرز نے اونچی آواز میں ان کا نام پکارنا شروع کر دیا۔

اس بات پر سلمان خان کافی ناراض نظر آئے، انہوں نے ہاتھ کے اشاروں سے فوٹوگرافرز کے رویے پر سوال اٹھایا اور بعد میں سوشل میڈیا پر ایک کے بعد ایک کئی پوسٹس شیئر کر کے اپنی نجی زندگی میں مداخلت پر میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سلمان خان نے انسٹاگرام پر اپنی پہلی پوسٹ میں میڈیا کے لیے اپنے ماضی کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر میں ہسپتال میں کسی میڈیا والے کو میری تکلیف کا تماشہ بناتے دیکھوں گا، وہ میڈیا جس کے ساتھ میں ہمیشہ کھڑا رہا، بات چیت کی، خیال رکھا اور یہ یقینی بنایا کہ وہ بھی اپنی روزی روٹی کما سکیں، تو یہ غلط ہے۔

انہوں نے اپنی اگلی پوسٹ میں غصے کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ لیکن اگر وہ میرے نقصان سے پیسے کمانا چاہتے ہیں تو خاموش رہو۔ خوشی مت مناؤ۔ بھائی بھائی بھائی، تصویر اہم ہے یا زندگی؟

اداکار نے واضح کیا کہ کسی بھی قیمت پر نجی زندگی میں اس طرح کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فوٹوگرافرز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ایسے میں سو جلا دوں گا۔ ایک بھائی کے دکھ پر اگلی بار میرے ساتھ ٹرائی کر لینا، جب بھی تمہارا کوئی ہسپتال میں ہوگا تو کیا میں ایسا رویہ اختیار کروں گا؟

انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں یہ بھی لکھا کہ ساٹھ سال کا ہو گیا ہوں، لیکن لڑنا نہیں بھولا، یہ یاد رکھنا، جیل میں ڈال دو، ہا ہا ہا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اداکار اسپتال میں کس سے ملنے آئے تھے؟

اس سے قبل سلمان خان نے اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں تنہائی کا ذکر تھا۔

اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگیں، جس پر سلمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ، ”یار، میں اپنے بارے میں نہیں بات کر رہا تھا۔ کیسے میں اکیلا ہوں جب میرے پاس اتنے بڑے، شاندار خاندان اور دوست ہیں؟ کبھی کبھی لوگوں کے ساتھ رہ کر بور ہو جاتا ہوں، اس لیے تھوڑا می ٹائم۔ اس بار کوئی تصویر نہیں، بریکنگ نیوز بنا دیا۔“