خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر ہوگا، اردو، پنجابی اور پشتو بھی شامل
مکہ مکرمہ میں حج 2026 کے موقع پر خطبہ حج اور یوم عرفہ کا خطبہ دنیا کی 35 بڑی زبانوں میں ترجمہ کر کے نشر کیا جائے گا، جن میں اردو، پنجابی اور پشتو سمیت متعدد علاقائی اور بین الاقوامی زبانیں شامل ہوں گی، اس طرح اس سال 50 سال افراد خطبہ حج براہ راست سن سکیں گے، یہ اقدام دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین حج کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ اور امورِ حرمین شریفین کی جنرل پریذیڈنسی کے مطابق اس سال خطبہ حج جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سرکاری نشریاتی چینلز کے ذریعے عالمی سطح پر براہِ راست نشر کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس سے مستفید ہو سکیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال یوم عرفہ کا خطبہ 35 زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا اور اسے دنیا بھر میں براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ ان زبانوں میں انگریزی، فرانسیسی، انڈونیشیائی، ترکی، فارسی، روسی، چینی اور دیگر اہم عالمی زبانیں شامل ہوں گی، جبکہ اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی اور پشتو زبان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ اعلان امورِ دینیہ کے سربراہ شیخ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے ایک سائنسی فورم کے اختتام پر کیا، جس کا عنوان ”حرمین شریفین میں دینی خدمات کے فروغ کے لیے سعودی عرب کی کوششیں“ تھا۔
حکام کے مطابق اس سال خطبہ حج مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی دیں گے۔
ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حرمین شریفین میں پہلے ہی سے متعدد زبانوں میں خطبات کا بیک وقت ترجمہ کیا جاتا ہے، جبکہ ’’منارۃ الحرمین‘‘ پلیٹ فارم اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے بھی مختلف زبانوں میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ حرمین شریفین میں رہنمائی کے لیے ڈیجیٹل گائیڈنس، اشارتی بورڈز، الیکٹرانک اسکرینز، بروشرز اور قرآن پاک کے تراجم مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔
عازمین حج کی رہنمائی کے لیے فیلڈ ٹیمیں اور رضاکار بھی مختلف زبانوں میں خدمات انجام دیتے ہیں تاکہ عبادات کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
سعودی حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کے لیے حج کے تجربے کو آسان، مربوط اور زیادہ بامعنی بنانا ہے، تاکہ مکہ مکرمہ کو عالمی مسلم اتحاد کے مرکز کے طور پر مزید مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔











