روس اور چین نے امریکا کے ’گولڈن ڈوم‘ منصوبے کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے دیا
روس اور چین نے بدھ کے روز مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ میزائل ڈیفنس شیلڈ کا منصوبہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ دونوں ملکوں نے امریکا پر جوہری معاہدوں کے تسلسل کو نقصان پہنچانے اور عالمی سلامتی کے توازن کو متاثر کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی دارالحکومت بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں امریکا کی دفاعی اور جوہری پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ گولڈن ڈوم منصوبہ ایک ایسے میزائل ڈیفنس سسٹم کا تصور ہے جو تمام اقسام کے میزائلوں کو ان کے مختلف مراحل حتیٰ کہ لانچ سے قبل بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق اس طرح کے اقدامات اسٹریٹجک استحکام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں جو دفاعی اور جارحانہ ہتھیاروں کے باہمی تعلق اور توازن پر مبنی ہیں۔
واضح رہے کہ گولڈن ڈوم امریکا کا ایک زیرِغور منصوبہ ہے، جو ایک انتہائی جدید اور ملٹی لیئر میزائل ڈیفنس سسٹم پر مبنی ہوگا۔ یہ سسٹم امریکا کو دشمن کے ہر قسم کے فضائی حملوں سے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ نظام چار سطحوں ہر مشتمل ہوگا، جس میں زمین، سمندر اور خلا میں موجود سینسرز اور ریڈارز شامل ہوں گے جو میزائل کو داغے جانے سے لے کر ہدف تک پہنچنے تک کسی بھی مرحلے پر تباہ کر سکتے ہیں۔
اگر امریکا اس منصوبے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ وسیع رینج کا حامل دنیا کا پہلا دفاعی نظام ہوگا جو خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر سکے گا۔ یہ نظام جدید لیزر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) سے لیس ہوگا جو امریکا کی جانب آنے والے کسی بھی میزائل کی فوری معلومات اکھٹی کرکے، اسے فائر ہوتے ہی یا دورانِ پرواز تباہ کرسکے گا۔
روس اور چین نے کہا ہے کہ حریف ملکوں کے ہر قسم کے میزائلوں کو ان کے داغے جانے سے قبل یا پرواز کے دوران تباہ کرنے کا یہ امریکی منصوبہ عالمی امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے بنیادی اصولوں کے بالکل منافی ہے جن کے تحت جارحانہ اور دفاعی ہتھیاروں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے۔
دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کچھ ریاستوں کی جانب سے دشمن کو غیر مسلح کرنے کے لیے پیشگی میزائل حملوں کے منصوبے خطے کو غیر مستحکم کرنے اور اسٹریٹجک خطرات پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
مشترکہ بیان میں روس اور چین نے امریکا کی اس پالیسی پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس کے تحت 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والا اسلحے کے کنٹرول کا معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ رواں سال بغیر کسی توسیع کے ختم ہوگیا۔
اس معاہدے کا مقصد دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتوں (امریکا اور روس) کے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو محدود اور کم کرنا تھا۔ 5 فروری کو مدت مکمل ہونے پر یہ معاہدہ باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک نے تاحال غیر رسمی طور پر ہتھیاروں کی پرانی حدود پر قائم رہنے کا اشارہ دیا ہے لیکن قانونی طور پر اب کوئی بھی فریق کسی حد کا پابند نہیں رہا۔
دوسری جانب روس نے امریکا کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی جوہری ہتھیاروں کے مذاکرات میں حصہ نہ لینے کے چین کے مؤقف کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب، کشیدگی کے اس ماحول میں روس نے بدھ کے روز ایک فوٹیج بھی جاری کی جس میں روسی اور بیلاروسی فوجیوں کو ’اسکندر ایم‘ موبائل میزائل لانچ سسٹمز پر جوہری وار ہیڈز لوڈ کرتے اور انہیں لانچ سائٹس تک منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ کارروائی روس اور بیلاروس میں جاری وسیع تر جوہری مشقوں کا حصہ ہے۔















