ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے: صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے، نیتن یاہو کو جو کہوں گا وہ وہی کریں گے: امریکی صدر
شائع 20 مئ 2026 08:34pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ڈیل کرنے کے لیے بے تاب ہے، ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، ایران میں لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہ ڈیل چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے، نیتن یاہو کو جو کہوں گا وہ وہی کریں گے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بدھ کو واشنگٹن ڈی سی کے قریب واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر بات کی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کہا کہ اگرچہ ایران سے ڈیل میں وقت لگ رہا ہے، ہم ایران کو ایک موقع دینے جا رہے ہیں اور مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، ایران ڈیل کرنے کے لیے بے تاب ہے، ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔

امریکی صدر نے گفتگو کے دوران مختلف امریکی جنگوں بشمول افغانستان اور ویتنام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ویتنام، افغانستان، عراق اور دیگر ملکوں میں کئی کئی سال تک جنگیں لڑیں۔ ایران جنگ کو ابھی تین ہی ماہ ہوئے ہیں، اس میں بھی زیادہ وقت سیز فائر کا ہے، افغانستان میں 10 سال اور کوریا میں 7 سال جنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لوگوں میں بہت غصہ پایا جاتا ہے، وہاں لوگ بری طرح سے رہ رہے ہیں، ہم نے ایران کو بری طرح سے شکست دی ہے، ایران جنگ میں ہم نے صرف 13 جانیں گنوائیں، دیگر جنگوں میں ہم نے لاکھوں جانیں گنوائیں جب کہ وینزویلا آپریشن میں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کی ہے لیکن اگر معاہدہ نہ کیا تو ایران کے لیے اچھا نہیں ہو گا، ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے، نیتن یاہو کو جو کہوں گا وہ وہی کریں گے، ہمیں آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔

دورہ چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چین کا دورہ کامیاب رہا اور چینی صدر شی جن پنگ سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر بہت اچھے انسان ہیں۔

انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورہ چین پر صرف اتنا تبصرہ کیا کہ روسی صدر کا دورہ چین اچھی بات ہے، صدر پیوٹن کی استقبالیہ تقریب اتنی شاندار نہیں تھی جتنی میری تھی۔

بال روم کی تعمیر کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت زبردست بال روم بنا رہے ہیں اس کی ضرورت تھی، ڈرون پروف بال روم بنا رہے ہیں یہ بہت محفوظ ہوگا۔

داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیلی فورنیا کے انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، شاید میں اسرائیل جاؤں اور وزیراعظم کا انتخاب لڑوں، مجھے 90 فیصد اسرائیلی ووٹ دیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ اس سے فقط ایک گھنٹہ قبل وہ کارروائی مؤخر کرنے کے لیے قائل ہوگئے، ہم مکمل طور پر تیار تھے اور وہ حملہ اس وقت ہو رہا ہوتا۔

ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان موجود غیر یقینی جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم ہو جاتی۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ انہوں نے منگل کے لیے مجوزہ حملہ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باعث انہیں کچھ وقت دینے کی درخواست کی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔