بھارتی اداکار سنجے دت کی بیٹی کے دکھ بھرے بچپن کی دردناک کہانی
عام طور پر فنکاروں کی فیملی کی لائف کو آئیڈیل تصور کیا جا تا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی زندگی عیش و آرام، گلیمر اور ہر طرح کی خوشیوں سے بھری ہوتی ہے، لیکن بولی ووڈ کے مشہور اداکار سنجے دت کی بیٹی تریشالا دت کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔
یوٹیوب چینل انسائیڈ تھاٹس آؤٹ لاؤڈ میں گفتگو کرتے ہوئے تریشالا دت نے اپنی زندگی کے مشکل دنوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں پرورش پاتے ہوئے انہیں نسل پرستی، بدمعاشی، تنہائی اور اپنی والدہ، اداکارہ رچا شرما، کی المناک موت جیسے صدموں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا انہیں ایک امیر اور نامور خاندان کی بیٹی کے طور پر دیکھتی تھی لیکن ان کا بچپن عام بچوں سے بھی زیادہ مختلف، تنہائی اور درد سے بھرا ہوا تھا، خصوصاً جب وہ محض آٹھ سال کی تھیں تو ان کی والدہ اور اداکارہ رچا شرما دماغ کے کینسر کے باعث انتقال کر گئیں اور وہ نیویارک میں بالکل اکیلی رہ گئیں۔
تریشالا کے مطابق جب وہ صرف پانچ یا چھ سال کی تھیں تو اسکول میں بچوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہندوستانی ہونے، بھنویں جڑی ہونے، گھنگھریالے بالوں اور چہرے پر بالوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا تھا۔
تریشالا نے بتایا کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا۔ جب ہائی اسکول میں ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ وہ سنجے دت کی بیٹی ہیں تو ان سے توقعات اور تنقید مزید بڑھ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سوسائٹی کے معیار پر پورا نہیں اترتی تھی اور لوگ جیسا سنجے دت کی بیٹی کو تصور کرتے تھے، میں ویسی بالکل نہیں دکھتی تھی۔
تریشالا دت نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد کی تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صدمے نے مجھے اندر سے توڑ دیا تھا۔ اس دور میں میرے پاس کوئی ایسا نہیں تھا جس سے میں اپنے دل کی بات کر سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی تنہائی اور دکھ کو مٹانے کے لیے کھانے کا سہارا لیا کیونکہ کھانا میرے خالی پن کو بھرتا تھا اور مجھے سکون دیتا تھا، کاش اس وقت میرے پاس بات کرنے کے لیے کوئی ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اکیلے پن میں انہوں نے تیرہ سال کی عمر سے ڈائری لکھنا شروع کی جو وہ آج بھی لکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ایسے حالات میں آپ کو صرف اپنے آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے، میرے پاس بھی اپنے احساسات بانٹنے کے لیے کوئی نہیں تھا، صرف میری ڈائری تھی۔
تریشالا کی زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب ان کی خالا نے ان سے ایک ایسی بات کہی جس نے ان کی سوچ بدل دی۔
تریشالا نے کہا کہ میری خالا نے مجھ سے کہا تھا کہ تریشالا، کوئی بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا، تمہیں خود کو خود ہی سنبھالنا ہوگا۔ انہوں نے اس جملے کو اپنی زندگی کا سب سے اہم لمحہ قرار دیا کیونکہ یہی الفاظ ان کے لیے نئی طاقت بن گئے۔
اس کے بعد انہوں نے نفسیات کی تعلیم حاصل کی اور وہ اب ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کی معالج بن چکی ہیں۔ اب وہ سمجھتی ہیں کہ لوگ دوسروں کو کیوں تنگ کرتے ہیں۔
تریشالا کا کہنا ہے کہ جب لوگ آپ پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کے اپنے اندر کسی چیز کی کمی ہے، وہ دوسروں کو چھوٹا دکھا کر خود کو بڑا محسوس کروانا چاہتے ہیں۔
تریشالا دت نے والدین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے والدین آپ کا ساتھ دینے والے ہوں تو یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں کیونکہ بچپن میں انسانی دماغ ایک اسپنج کی طرح ہوتا ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
یادرہے کہ تریشالا دت، سنجے دت اور ان کی پہلی اہلیہ رچا شرما کی بیٹی ہیں۔ رچا 1996 میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔
تریشالا امریکا میں اپنے نانا نانی کے ساتھ پلی بڑھیں اور وہاں وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔
سنجے دت کی موجودہ اہلیہ مانیتا دت سے ان کے دو بچے (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) ہیں، جن کے ساتھ وہ ممبئی میں رہتے ہیں۔
















