پاکستان کی کوششیں تیز، امریکا ایران مذاکرات اب بھی غیر یقینی کا شکار

تہران اور واشنگٹن میں خفیہ رابطے تیز، محسن نقوی سرگرم، عاصم منیر کے ممکنہ دورے کی بازگشت
شائع 22 مئ 2026 11:22am

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار میں سامنے آ گیا ہے، جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان خاموش مگر حساس مذاکرات جاری ہیں۔ اگرچہ معاہدے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن جنگ بندی، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات پر شدید اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث خطے کی نظریں پاکستانی ثالثی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران اور واشنگٹن اس وقت براہِ راست مذاکرات کے بجائے پیغامات اور مجوزہ مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے باضابطہ فریم ورک تیار کیا جا سکے۔

اس سے قبل ایک ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ مذاکرات کار کسی معاہدے کے “بہت قریب” پہنچ چکے ہیں اور ڈرافٹ معاہدے پر کام جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی معاہدے کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے کچھ اچھے آثار موجود ہیں، جبکہ پاکستانی حکام کی تہران آمد اس عمل کو مزید آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی ماحول اب بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ کبھی یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ معاملات حل ہونے کے قریب ہیں، تو کبھی اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور جلد پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنا جواب واشنگٹن تک پہنچائیں گے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیرداخلہ محسن نقوی گزشتہ تین روز سے تہران میں موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے کر رہے ہیں۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد متوقع تھی، تاہم وہ ابھی تک ایران نہیں پہنچے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف اس وقت ہی تہران جائیں گے جب مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے گی۔ اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو یہ ان کا ایران کا دوسرا اہم دورہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ایران کا مطالبہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ہر محاذ پر مکمل جنگ بندی کی ضمانت دی جائے، جبکہ امریکا جنگ کے خاتمے کو مرحلہ وار عمل سے مشروط کر رہا ہے اور اسے مذاکرات کی پیش رفت سے جوڑ رہا ہے۔

اختلافات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز بھی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر اس کی خودمختاری مزید مضبوط ہو، جبکہ امریکا اور خطے کے کئی ممالک اس مؤقف کی مخالفت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی 30 فیصد سے زائد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ امریکا ان اثاثوں کا ایک حصہ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔

امریکا ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ تہران میں موجود ایک مرکز کے علاوہ تمام جوہری تنصیبات بند کی جائیں اور ایران مکمل طور پر زیرو یورینیم افزودگی کی یقین دہانی کرائے۔

اس کے علاوہ واشنگٹن نے ایران سے 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔