ذکیہ احمد دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی افغان خاتون بن گئیں
افغانستان سے تعلق رکھنے والی ذکیہ احمد، جو “ریور” کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں، دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی افغان خاتون بن گئی ہیں۔
ذکیہ نے جمعرات کی صبح 8,848 میٹر بلند چوٹی کو نیپالی گائیڈز دوا تینزنگ شیرپا اور پھربا گیالجین شیرپا کے ہمراہ کامیابی سے سر کیا۔
ذکیہ احمد ایک افغان پناہ گزین اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ طالبان کی واپسی کے بعد وہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں اور آسٹریلیا میں پناہ حاصل کی تھی۔ انہوں نے اس مہم کا اجازت نامہ بھی آسٹریلوی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔
ماؤنٹ ایورسٹ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں نیپال اور چین کے تبت کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ سخت موسم، کم آکسیجن اور خطرناک راستوں کے باوجود دنیا بھر سے کوہ پیما ہر سال اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق کا اعزاز
دوسری جانب، پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما سلمان عتیق نے بھی جمعرات صبح 11 بج کر 49 منٹ پر ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر کر لیا۔ وہ دنیا کی اس بلند ترین چوٹی پر پہنچنے والے 14 ویں پاکستانی کوہ پیما بن گئے ہیں۔
سلمان عتیق اس سے قبل ایک سال پہلے دنیا کے آٹھویں بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ مناسلو کو بھی سر کر چکے ہیں۔ الپائن کلب کے نائب صدر کررار حیدری نے سلمان عتیق کے عزم، بہادری اور جذبے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کی کوہ پیمائی برادری کے لیے ایک بڑی پیش رفت اور ملک کے نوجوان مہم جوؤں کے لیے ایک روشن مثال قرار دیا ہے۔












