بھارتی گلوکار تلویندر پر تنقید کے بعد حسن رحیم کا کرارا جواب

ایک کنسرٹ میں دونوں فنکاروں کے گلے ملنے اور گانے کی ویڈیوز پر بھارتی صارفین بھڑک اٹھے تھے۔
شائع 21 مئ 2026 04:08pm

پاکستانی پاپ گلوکار حسن رحیم نے بھارتی گلوکار تلویندر کے ساتھ مشترکہ پرفارمنس کے بعد سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والے تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسیقی اور فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور فنکاروں کے درمیان تعاون کو منفی انداز میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی اور سیاسی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے نوجوان فنکاروں میں موسیقی کے ذریعے رابطے بڑھ رہے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں منعقدہ حالیہ کنسرٹ میں یہ مشترکہ لائیو پرفارمنس بنی ہے۔

حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں حسن رحیم نے پاک بھارت فنکاروں کے باہمی اشتراک پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ موسیقی اور فن کو سرحدوں کا پابند نہیں ہونا چاہیے اور فنکاروں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جدید دور میں پہلے کی طرح مشکل نہیں رہا ہے۔

حسن رحیم نے ایک انٹرویو میں ٹورنٹو میں 10 مئی کو منعقدہ کنسرٹ کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ جب بھارتی گلوکار تلویندر ان کے ساتھ اسٹیج پر آئے اور انہوں نے پہلی بار اپنے مقبول مشترکہ گانے ’وشز‘ کو لائیو پرفارم کیا، تو وہ لمحہ انتہائی جذباتی تھا۔

حسن رحیم کا کہنا تھا کہ اس موقع پر وہ تلویندر سے بار بار گلے ملنے سے خود کو روک نہیں سکے، کیونکہ ان کے مطابق آخرکار موسیقی اور فن ہی جیتتے ہیں۔

دونوں فنکاروں کے درمیان دوستی اور کام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ اب تک تین گانوں پر ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ حسن رحیم نے تلویندر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تلویندر کی بے باکی اور منفرد انداز بے حد پسند ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ دونوں نے اسٹیج پرفارمنس کو بہت سادہ رکھنے کی کوشش کی تھی، لیکن جیسے ہی تلویندر اچانک اسٹیج پر آئے تو وہاں ایک الگ ہی سماں بن گیا۔ اس لمحے شائقین کا جوش و خروش عروج پر پہنچ گیا۔

سامعین کے اصرار پر بھارتی گلوکارنے یہ گانا ایک بار نہیں بلکہ بار بار گایا۔ حسن رحیم نے بتایا کہ جب تیسری بار گانے کی فرمائش ہوئی تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مہمان فنکار کو مزید تھکانا نہیں چاہتے تھے، لیکن تلویندر نے خود اصرار کیا کہ وہ دوبارہ پرفارم کریں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس مشترکہ پرفارمنس کے اثرات اور اس کے بعد ہونے والے ردعمل سے واقف تھے، تو انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اس کا مکمل اندازہ تھا۔

حسن رحیم کا ماننا ہے کہ اگر آپ کو کسی دوسرے فنکار کا انداز، توانائی اور موسیقی پسند ہو، تو اس سے رابطہ کرنا اور ساتھ کام کرنے کی پیشکش کرنا ایک انتہائی سادہ عمل ہے، لیکن لوگ اسے بلاوجہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ موسیقی ہمیشہ دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بچپن میں بڑے فنکاروں کے کنسرٹس میں اچانک کسی مہمان فنکاروں کی آمد دیکھ کر بہت متاثر ہوتے تھے، اسی لیے اب وہ خود بھی اپنے کنسرٹس میں دوستوں کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی خاندانی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے والدین نے مجھے سکھایا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ مستقل نہیں بلکہ عارضی ہوتا ہے اس لیے انہیں کھونے کے بجائے اپنے دوستوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ خوشی خوشی بانٹنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس کنسرٹ کے دوران دونوں فنکاروں کی گلے ملنے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز میں گانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں۔

بعد ازاں، جب بھارتی گلوکار تلویندر نے انسٹاگرام پر اس کنسرٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اسے اپنے ایک ’خواب کا پورا ہونا‘ قرار دیا، تو بڑی تعداد میں انتہا پسند بھارتی صارفین بھڑک اٹھے۔

تلویندر کو پاکستانی فنکار کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے اور محبت کا اظہار کرنے پر شدید تنقید اور ٹرولنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی ناقدین کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی اور بھارتی فنکاروں کا ایک ساتھ اسٹیج شیئر کرنا مناسب نہیں، جبکہ بعض صارفین نے اسے صرف شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

تاہم حسن رحیم کے اس نئے بیان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فنکار نفرتوں کے بجائے فن کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔