ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا، قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے میں کہا ہے کہ دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کے روز اپنے ایک بیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے سمیت ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپریم لیڈر کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ ریاستی امور چلانے کے لیے متفقہ فیصلے اور اجتماعی اطاعت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکےٓ
ایرانی صدر نے کہا کہ ایسا کوئی بھی بیان، تجزیہ یا مؤقف جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرے، دراصل دشمن کے مقاصد کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں تمام اہم فیصلے سپریم لیڈر کی اجازت سے ہی کیے جاتے ہیں۔
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہیں، ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا، ایران مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے تاہم ایرانی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات، عزت اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
صدر پزشکیان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اختلافات برقرار
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بعض شقوں پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور امریکی رکاوٹوں کے باعث معاملات کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔
ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کی ایک یا دو شقوں پر اختلافات تاحال موجود ہیں۔ امریکی رکاوٹوں کے باعث اختلافات کے حل کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوسکا اور معاہدے کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔
باخبر ذریعے نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ پر زور دے رہا ہے اور اسی مؤقف پر قائم ہے۔ یورینیم افزودگی کو 10 برس تک روکنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کو بھی آگاہ کردیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے رکاوٹیں برقرار رہیں تو مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا۔
ایرانی ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکراتی عمل جاری ہے تاہم بعض اہم نکات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ابھی تک نہیں ہوسکا۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کو 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا تاہم ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں بہتری امریکی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی جب کہ واشنگٹن ایران کے تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی یا انہیں ختم کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز اور ناکہ بندی سے متعلق معاملات کے لیے 30 روزہ مرحلہ مقرر کیا جائے گا جب کہ جوہری مذاکرات کے لیے 60 دن کی مدت رکھی جائے گی۔












