لاپتہ پاکستانی کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کی تلاش جاری
شارجہ سے کراچی آنے والے ’کے ٹو ائیرویز‘ کے کارگو طیارے کا ملبہ مل گیا ہے، پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے سمندر میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران لاپتہ کارگو طیارے کا ملبہ اوڑمارہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب میں تلاش کرلیا جب کہ عملے کے تمام افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
بحیرہ عرب میں لاپتہ ہونے والے کارگو طیارے کی تلاش کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، پاک بحریہ اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ریسکیو آپریشن کو کامیابی مل گئی ہے اور لاپتہ طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق طیارے کا ملبہ اوڑمارہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل مائل جنوب کی جانب سمندر میں دریافت ہوا ہے، آپریشن گزشتہ 12 گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری تھا جس میں پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کے جدید بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔
ملبہ ملنے کے بعد اب ریسکیو آپریشن کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جہاں ریسکیو ٹیمیں طیارے کے عملے کے ارکان کی تلاش اور مزید شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں یہ ایک انتہائی حساس آپریشن ہے اور اس وقت تمام تر توجہ عملے کے ارکان کی بازیابی پر مرکوز ہے۔

یاد رہے کہ شارجہ سے کراچی آنے والا ’کے ٹو ائیرویز‘ کا ایک مال بردار یعنی کارگو طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام 5 افراد لاپتہ ہوگئے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بوئنگ 737 طیارہ شارجہ سے سامان لے کر کراچی کی طرف آ رہا تھا اور رات کے وقت اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے جہاز کے عملے کے تمام پانچوں ارکان پاکستانی شہری تھے۔
ایوی ایشن حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ رات 9 بج کر 18 منٹ پر کے ٹو ائیرویز کی پرواز نے اپنے راستے پر سفر کے دوران نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جس پر کراچی کے کنٹرول ٹاور نے فوری طور پر پائلٹ کی رہنمائی شروع کی تھی۔

لیکن اس کے ٹھیک 3 منٹ بعد یعنی رات 9 بج کر 21 منٹ پر، جہاز اچانک ریڈار پر بہت تیزی سے نیچے کی طرف گرتا ہوا دکھائی دیا اور اس کا رخ بھی تیزی سے بدلا، اس کے فوراً بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل دور مغرب کی طرف سمندر کے اوپر طیارے کا ریڈار سے رابطہ پوری طرح ٹوٹ گیا۔
طیارے کے لاپتہ ہونے کے فوراً بعد پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی(پی اے اے) کی جانب سے ہنگامی امدادی مرکز کو متحرک کیا گیا اور مختلف اداروں کی مدد سے سمندر میں ایک بڑا سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ طیارہ اورماڑا کے قریب سمندر کے اوپر پرواز کر رہا تھا جب یہ لاپتہ ہوا۔
سول ایوی ایشن نے لاپتہ ہونے والے تمام پانچوں پاکستانیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔ حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں جہاز کے کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی، فلائٹ انجینئرز محمد حامد اور محمد عارف صدیقی، اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔















