آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات، آئل ٹینکروں کا رخ تبدیل، ہزاروں کارکن سمندر میں محصور
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ متعدد تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے، ہزاروں سمندری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خامیوں کو موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کی جانب سے منگل کو آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے بعد کم از کم چار تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا۔
’رائٹرز‘ نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنیوں کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ الغریہ، دحیل اور الرویس نامی تین ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم منگل کی شب انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تینوں ٹینکر قطر انرجی کے زیر انتظام تھے اور خالی حالت میں قطر کی راس لفان برآمدی تنصیب جا رہے تھے، جہاں انہیں مائع قدرتی گیس کی کھیپ لادنی تھی۔ ادھر بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر لیلا وڈینار، جو کویت کے تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا، بدھ کے روز آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل سے واپس مڑ گیا۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل قطر نے آبنائے ہرمز کے قریب قطری ایل این جی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی بحری جہاز رانی، عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران سے ایسے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بعض آئل ٹینکر بدستور اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ مرکری ہوپ نامی ایک بڑے خام تیل بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات کے 20 لاکھ بیرل خام تیل کے ساتھ بدھ کو آبنائے ہرمز عبور کر لی، جب کہ جاپانی آئل ٹینکر ٹینجن بھی منگل کی شب اس راستے سے گزر گیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کا سپر ٹینکر پرتامینا پرائیڈ بھی دو ملین بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا، تاہم اس دوران اس کا ٹرانسپونڈر بند تھا۔
دوسری جانب بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں جزوی بہتری دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کے 36 کے مقابلے میں 41 بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے۔
تاہم عمان کے قریب ٹینکروں سے متعلق دو نئے واقعات اور ایران سے وابستہ تجارت پر امریکی پابندیوں کے مزید سخت ہونے کے بعد بحری سلامتی، پابندیوں کی پاسداری اور بحری راستوں کے خطرات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ کپلر کے مطابق اب توجہ صرف بحری ٹریفک کی بحالی پر نہیں بل کہ سیکیورٹی، قانونی تقاضوں اور بحری راستوں کے خطرات کے مؤثر انتظام پر بھی مرکوز ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6 ہزار سمندری کارکن اب بھی خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ حملوں نے پہلے سے موجود خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور نفسیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز محفوظ طریقے سے خلیج فارس سے باہر نہیں نکل پا رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی کمزوریاں بھی نمایاں کر دی ہیں۔
واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق بنیادی اختلاف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے طریقۂ کار پر ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم عبوری مدت کے دوران تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت ایران کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے ہونی چاہیے، جب کہ امریکا کا کہنا ہے کہ جہاز ایرانی یا عمانی بحری راستوں سے بغیر ایرانی اجازت کے بھی گزر سکتے ہیں۔
ٹریٹا پارسی کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ امریکا اس مفاہمت کو آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں ایران اپنی اہم تزویراتی برتری کھو سکتا ہے۔
ادھر کنگز کالج لندن کے ماہر بین الاقوامی امور آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ موجودہ مفاہمتی انتظام میں دونوں ممالک کی قابل قبول کارروائیوں کی حدود واضح نہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال زیادہ عرصے تک برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔













