امریکا کے ایران پر نئے حملے؛ امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب

حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کیے گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ
شائع 08 جولائ 2026 09:06am

امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ ایران نے امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایران کے خلاف نئے فضائی حملے کیے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف ”طاقتور حملوں“ کا آغاز کیا تاکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ شہری عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھاری قیمت وصول کی جا سکے۔

سینٹ کام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ مبینہ کارروائی بلاجواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، کوسٹل سرویلنس سسٹم، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائلز، ڈرون لانچ سائٹس اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہی کشتیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ اگر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو امریکا ایران کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اس مرحلے کی فوجی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ”جارحیت اور دہشت گردی“ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کی مرکزی کمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہر وہ اقدام کرے گا جسے وہ ضروری سمجھے گا اور کسی بھی صورت آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی مداخلت یا کسی دوسرے ملک کو اس اہم بحری راستے کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ساحلی شہر سرک، بندرعباس اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی بمباری کے بعد بندرعباس سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے بھی دیکھے گئے، تاہم ایران نے فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ادھر امریکی حملوں کے بعد بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، وہاں احتیاطاً میزائل حملے کے سائرن بھی بجا دیے گئے۔

ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ”دباؤ اور دھونس کا دور ختم ہو چکا ہے، ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔“

امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر وسیع علاقائی تنازع کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔