مستقبل میں آنے والے نئے جان لیوا وائرس سے خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟
حال ہی میں دنیا کے مختلف حصوں میں ایبولا اور ہنٹا وائرس جیسے خطرناک وائرسز کی خبروں نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان خبروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کنساس اسکول آف میڈیسن میں میڈیسن کے کلینیکل پروفیسر ڈاکٹر تھامس مور کا کہنا ہے کہ خبروں کی سرخیاں ڈراؤنی ضرور ہوتی ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ایک عام مسافر کے لیے ان وائرسز کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدی امراض کے ماہر اور انفیکشیس ڈیزیز سوسائٹی آف امریکہ کے صدر ڈاکٹر رونالڈ نہاس نے بتایا کہ لوگ اکثر وائرسز کے حوالے سے پریشان رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرس ایک ایسی چیز ہے جسے آپ دیکھ یا محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ بیمار نہ ہو جائیں، اسی لیے میں اسے پوشیدہ دشمن کہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ کی وجہ سے ہمارے ذہنوں پر جو خوف سوار ہے، وہ ہمیں اگلی وبا کے بارے میں فکرمند کر دیتا ہے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم شیفنر نے اس بات پر زور دیا کہ ایک وائرس کے خوف کو دوسرے وائرس کی پریشانی میں نہیں بدلنا چاہیے کیونکہ ہر وائرس کی اپنی الگ خصوصیت ہوتی ہے۔
بقول ان کے، وائرسز ان کزنز کی طرح ہیں جن کا خاندانی نام تو ایک ہوتا ہے لیکن ان کی انفرادی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں، جیسے کووڈ پوری دنیا میں پھیل گیا، لیکن ایبولا اس سے بالکل مختلف ہے۔
ایبولا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری عام طور پر متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں، فضلے یا قے کے براہِ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔ افریقہ میں یہ اکثر تدفین کی مقامی رسومات کی وجہ سے پھیلتا ہے۔
ڈاکٹر شیفنر کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والا کوئی ایسا شخص جسے ایبولا ہو لیکن وہ بظاہر صحت مند ہو اور اس میں کوئی علامات نہ ہوں، تو وہ جہاز میں موجود کسی دوسرے شخص کے لیے خطرہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق یہ بات لوگوں کے لیے سمجھنا تھوڑا مشکل ہے کہ ایک متاثرہ شخص تب ہی دوسروں کے لیے خطرناک ہوتا ہے جب وہ شدید بیمار ہو۔
ہنٹا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ شمالی امریکہ میں ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام ایک انسان سے دوسرے انسان میں نہیں پھیلتیں، بلکہ یہ چوہوں کی وجہ سے پھیلتا ہے۔
ہنٹا وائرس کی ایک نایاب قسم اینڈیز وہ واحد قسم ہے جو انسانوں میں پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس ارجنٹائن اور چلی میں پایا جاتا ہے اور حال ہی میں ایک کروز جہاز پر ہونے والی اموات کی وجہ بھی یہی تھا۔
ڈاکٹر شیفنر نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کروز جہاز پر لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب رہتے ہیں، لہٰذا اگرچہ اینڈیز ایک متعدی وائرس ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ بہت تیزی سے پھیلنے والا نہ ہو۔
تو پھر ہمیں کن وائرسز سے پریشان ہونا چاہیے؟ ماہرین کے مطابق ہمیں ان عام وائرسز سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو ہم گھر، اسکول یا کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔ ان میں سانس کے وائرس جیسے نزلہ، زکام، کووڈ اور آر ایس وی کے ساتھ ساتھ آنتوں کے وائرس، خسرہ، ممپس اور پولیو شامل ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں ویکسینیشن کی شرح میں کمی تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر نہاس نے خبردار کیا کہ خسرہ اس وقت سب سے زیادہ تشویشناک وائرس ہے، اور اگر کوئی شخص جسے ویکسین نہ لگی ہو، وہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں جاتا ہے تو وہ خسرہ کو اپنے علاقے میں واپس لا کر وبا پھیلا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ڈاکٹر پیٹر چن ہانگ نے بتایا کہ بچوں میں فلو اور کووڈ ویکسینیشن کی شرح بھی کم ہو رہی ہے جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں اموات اور فلو کی شرح گزشتہ سال بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
ان وائرسز سے بچنے کے لیے ماہرین نے چند انتہائی آسان مگر اہم مشورے دیے ہیں۔
ڈاکٹر شیفنر کے مطابق عام صابن اور پانی سے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا آپ کا بہترین دفاع ہے، جو نہ صرف وائرس بلکہ دیگر انفیکشنز سے بھی بچاتا ہے۔
ڈاکٹر نہاس نے مشورہ دیا کہ شاپنگ کارٹ جیسی چیزوں کو استعمال کرنے سے پہلے سینیٹائزر سے صاف کریں اور اپنے چہرے اور ناک کو چھونے سے گریز کریں کیونکہ یہ وائرس پھیلنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر مور نے ویکسینیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خود کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تمام ضروری ویکسینز لگوائیں اور انہیں اپ ٹو ڈیٹ رکھیں۔
ماسک کے حوالے سے ڈاکٹر شیفنر نے کہا کہ جب وائرسز تیزی سے پھیل رہے ہوں تو این نائنٹی فائیو ماسک کا استعمال کریں۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جنہیں انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہے جیسے چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور پینسٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد۔
کھانے پینے کے حوالے سے ڈاکٹر مور نے ہدایت کی کہ بیرون ملک سفر کرتے ہوئے ہمیشہ محتاط رہیں۔ ڈاکٹر مور کا کہنا تھا، ”اگر کسی چیز کو اچھی طرح پکایا، چھیلا یا ابالا نہ گیا ہو تو اس کے استعمال سے گریز کریں۔“
ماہرین نے مشورہ دیا کہ جب وائرسز پھیل رہے ہوں تو ہجوم والی جگہوں، خاص طور پر بند مقامات پر ہونے والے ایونٹس میں جانے سے گریز کریں تاکہ آپ اور آپ کے پیارے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ نایاب وائرسز کی خبروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے روزمرہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے، کیونکہ یہی اقدامات انسان کو زیادہ تر متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
















