ایئرپورٹ پر سیکیورٹی چیک کے بعد دو چیزیں لازمی صاف کریں
فضائی سفر کے دوران بیشتر مسافر سیکیورٹی چیک مکمل ہونے کے بعد فوراً اپنی پرواز کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اس مرحلے کے فوراً بعد ہاتھوں اور ذاتی اشیا کو جراثیم سے پاک کرنا صحت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ہوائی سفر کا آغاز اکثر جلد بازی اور بھاگ دوڑ سے ہوتا ہے۔ ایئرپورٹ پر وقت سے پہنچنے، چیک ان کی لمبی لائنوں سے گزرنے اور سیکیورٹی چیکنگ کے مراحل طے کرنے میں مسافر کافی مصروف ہو جاتے ہیں۔
سیکیورٹی کاؤنٹر پر پہنچ کر ہر مسافر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کا سارا سامان بغیر کسی رکاوٹ کے اسکیننگ مشین سے گزر جائے۔ لوگ لیپ ٹاپ نکالتے ہیں، پانی یا دیگر مائع اشیاء الگ کرتے ہیں، بیلٹ اتارتے ہیں اور اپنی تمام ذاتی چیزیں وہاں موجود پلاسٹک کی ٹرے میں رکھ دیتے ہیں۔
سیکیورٹی سے فارغ ہوتے ہی لوگ اپنے بورڈنگ گیٹ کی طرف بھاگتے ہیں یا پھر کافی پینے کے لیے رک جاتے ہیں۔ لیکن اس سارے عمل میں اکثر مسافر ایک بہت ضروری کام بھول جاتے ہیں اور وہ ہے سیکیورٹی چیکنگ کے فوراً بعد اپنے ہاتھوں اور سامان کو جراثیم کش لیکویڈ یعنی سینیٹائزر سے صاف کرنا۔
طبی ماہرین اور سائنسی تحقیقات کے مطابق ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والی یہ پلاسٹک کی ٹرے جراثیم پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ٹرے میں عام بیت الخلا سے بھی زیادہ جراثیم پائے جا سکتے ہیں۔
ایئرپورٹ کی دوسری جگہوں کے مقابلے میں ان ٹرے کو ہر مسافر چھوتا ہے اور پورے دن میں ہزاروں بار یہ ٹرے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی ہیں، جبکہ ان کی باقاعدگی سے صفائی بھی نہیں کی جاتی۔
اگر ان کے استعمال پر غور کیا جائے تو خطرے کی وجہ صاف سمجھ آتی ہے۔ جس ٹرے میں آپ اپنا قیمتی فون یا پاسپورٹ رکھتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ آپ سے فوراً پہلے کسی مسافر نے اس میں اپنے گندے جوتے یا وہ بیگ رکھا ہو جو واش روم کے فرش کو چھو کر آیا ہو۔ یہ ٹرے اتنی تیزی سے گھومتی ہیں کہ ان میں رکھے جانے والے سامان میں مختلف قسم کے وائرس اور بیکٹیریا لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اس حوالے سے فن لینڈ کے ہیلسنکی وانتا ایئرپورٹ پر ایک تفصیلی سائنسی تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق کے دوران ایئرپورٹ پر سب سے زیادہ چھوئی جانے والی جگہوں کے نمونے لیے گئے تو معلوم ہوا کہ تقریباً دس فیصد جگہوں پر مختلف قسم کے وائرس موجود تھے۔ اس تحقیق میں پلاسٹک کی سیکیورٹی ٹرے کو سب سے زیادہ آلودہ پایا گیا۔
ماہرین نے ان ٹرے پر ایسے وائرس پائے جو عام نزلہ زکام اور انفلوئنزا یعنی فلو کا باعث بنتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اس ٹیسٹ کے دوران ایئرپورٹ کے واش رومز کی سطح پر سانس کی بیماریوں والے ایسے وائرس نہیں ملے۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ ایئرپورٹ جیسی مصروف جگہوں پر، جہاں روزانہ ہزاروں مسافر آتے ہیں، بیماریاں کتنی آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔
ایئرپورٹ پر جراثیم سے بچنے کے لیے ماہرین نے کچھ آسان طریقے بتائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایئرپورٹ پر، خاص طور پر سیکیورٹی چیکنگ سے پہلے اور بعد میں، سینیٹائزر کی مشینیں لگائی جائیں تو جراثیم کے پھیلاؤ کو بہت حد تک روکا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بار بار چھوئی جانے والی چیزوں اور ٹرے کی روزانہ صفائی بھی صفائی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔ مسافروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ اپنے پاس سینیٹائزر کی چھوٹی بوتل لازمی رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو ٹرے میں سامان رکھنے سے پہلے اسے کسی گیلے ٹشو یا سینیٹائزر سے صاف کر لیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیکیورٹی سے اپنا سامان اٹھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اپنے فون، پاسپورٹ، بورڈنگ پاس اور لیپ ٹاپ کو بھی اچھی طرح سینیٹائز کریں۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ صرف سیکیورٹی ٹرے ہی جراثیم کا مرکز نہیں ہیں۔ ایئرپورٹ پر کئی دوسری جگہیں بھی ہیں جہاں جراثیم بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ایک اور سائنسی تحقیق کے مطابق خودکار چیک ان کرنے والی مشین کی اسکرین پر گھر میں استعمال ہونے والے کموڈ کی سیٹ سے پندرہ سو گنا زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ دکانوں پر پیسے دینے والے کاؤنٹر، سیڑھیوں کے جنگلے، پاسپورٹ کنٹرول کے کاؤنٹر اور بچوں کے کھیلنے کی جگہیں بھی جراثیم سے بھری ہوتی ہیں۔ چونکہ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ سے پہلے ٹرے میں کیا رکھا گیا تھا، اس لیے سیکیورٹی چیک کے بعد اپنے سامان کو صاف کرنے کی عادت آپ کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
















