خلائی مخلوق کے رابطے پر سچائی دنیا کو بتانے کے لیے سائنس دانوں کا نیا پلان

سائنسدانوں نے یہ نئی تبدیلیاں لگ بھگ پندرہ سال بعد کی ہیں کیونکہ پچھلی ہدایات اب کافی پرانی ہو چکی تھیں۔
شائع 06 جون 2026 01:00pm

کائنات کی بے پناہ وسعتوں میں زمین سے باہر خلائی مخلوق کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اب سائنسدانوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر کبھی خلا سے کوئی ممکنہ پیغام یا سگنل موصول ہوتا ہے، تو اس کی خبر دنیا تک کیسے پہنچائی جائے گی۔ اس حوالے سے بین الاقوامی فلکیاتی اکیڈمی نے دنیا بھر کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔

ان نئی سفارشات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کبھی خلائی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ثبوت ملے، تو سوشل میڈیا کے اس دور میں لوگوں میں کسی قسم کی افواہ، بے جا خوف، پریشانی یا غلط فہمی نہ پھیلے۔ یہ نئی تبدیلیاں لگ بھگ پندرہ سال بعد کی گئی ہیں کیونکہ پچھلی ہدایات اب کافی پرانی ہو چکی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلی ڈیڑھ دہائی میں ہماری دنیا اور معلومات کے ذرائع بہت زیادہ بدل چکے ہیں۔ اب سوشل میڈیا، اے آئی، جھوٹی ویڈیوز یا ڈیپ فیک اور چوبیس گھنٹے چلنے والے نیوز چینلز کا دور ہے۔ ایسے ماحول میں اگر اتنی بڑی اور تاریخی خبر سامنے آئے گی، تو عام انسان کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سائنسدانوں نے سوچا کہ ایک ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس سے عام لوگوں تک صرف سچی اور تصدیق شدہ بات پہنچے۔

دی گارجین کے مطابق نئی ہدایات کے مطابق اگر کبھی خلا سے کوئی سگنل ملے گا، تو سائنسدان فوراً اس کا اعلان نہیں کریں گے بلکہ سب سے پہلے اس سگنل کی دوسرے آزاد ذرائع اور ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق کروائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی تمام ڈیٹا کو دنیا بھر کے دوسرے سائنسدانوں کے سامنے بھی رکھا جائے گا تاکہ کام میں شفافیت رہے اور لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

اس مہم کے سربراہ پروفیسر مائیکل گیریٹ کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا کوئی سگنل خلائی مخلوق کی مخصوص تلاش کے بجائے، روزمرہ کی عام فلکیاتی تحقیق کے دوران اچانک ہی سامنے آ جائے۔

اس منصوبے میں ایک اور اہم پہلو پر بھی غور کیا گیا ہے جس کا ذکر عام طور پر کم ہی ہوتا ہے، اور وہ ہے خود سائنسدانوں کی حفاظت اور ذہنی سکون۔

اتنی بڑی دریافت کرنے والے سائنسدانوں کو اچانک میڈیا کی شدید توجہ اور سوشل میڈیا پر لوگوں کے سخت رویوں یا آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے نئے قانون میں سائنسدانوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو خود کو میڈیا اور عوامی منظرنامے سے دور رکھ سکتے ہیں تاکہ ان کی نجی زندگی متاثر نہ ہو۔

اگرچہ اب تک کائنات میں زمین سے باہر کسی بھی ذہین مخلوق یا زندگی کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ملا ہے، لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایسے قوانین کا پہلے سے موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر کبھی مستقبل میں ایسا کوئی سگنل سچ ثابت ہو گیا، تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم ترین واقعہ ہوگا۔ فی الحال سائنسدانوں کا پیغام بہت سادہ اور واضح ہے کہ اگر کبھی ایسا کوئی خلائی پیغام ملا، تو دنیا تک صرف سچائی پہنچنی چاہیے، افواہیں نہیں۔