'ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ ٹرمپ خاندان کے کرپٹو کاروبار کا مرکز کیسے بنا؟ رپورٹ میں انکشاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے کرپٹو منصوبوں پر ’رائٹرز‘ کی ایک خصوصی تحقیق نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ خاندان نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں کرپٹو دنیا میں غیر معمولی مالی فوائد حاصل کیے، جب کہ ان منصوبوں میں سرمایہ لگانے والے بہت سے افراد کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ خاندان نے کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ایک کاروباری موقع کے طور پر استعمال کیا۔ اس دوران خاندان کے مختلف افراد، خصوصاً ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، مسلسل ایسے منصوبوں کی تشہیر کرتے رہے جنہیں مستقبل کی مالیاتی دنیا کا حصہ قرار دیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اپنا بہت کم سرمایہ خطرے میں ڈال کر امریکی صدر اور ان کے بیٹوں نے اپنے اہم کرپٹو منصوبوں سے خاندان کی دولت میں کم از کم 2.3 ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے، جب کہ جن سرمایہ کاروں کو انہوں نے متوجہ کیا تھا انہیں مجموعی طور پر 2.3 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ نامی منصوبہ ٹرمپ خاندان کے کرپٹو کاروبار کا مرکزی مرکز بن گیا۔ اس منصوبے کے ذریعے سرمایہ کاروں کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ ایک نئے مالیاتی نظام کا حصہ بن رہے ہیں، تاہم بعد میں اس کے ٹوکنز کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی دوران ’ٹرمپ میم کوائن‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا اور یہ میم کوائن بھی ہزاروں افراد کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ سوشل میڈیا پر اس کی بھرپور تشہیر کی گئی اور بہت سے لوگوں نے صرف اس وجہ سے سرمایہ کاری کی کہ اس کے ساتھ امریکی صدر کا نام جڑا ہوا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض منصوبوں میں سرمایہ کاروں پر اپنے ٹوکن فوری فروخت کرنے کی پابندیاں عائد تھیں، جس کے باعث وہ قیمتوں میں کمی کے باوجود بروقت اپنی سرمایہ کاری واپس نہیں نکال سکے۔ اس صورتِ حال نے کئی سرمایہ کاروں کے نقصانات کو مزید بڑھا دیا اور منصوبوں کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔
’رائٹرز‘ نے کئی ایسے سرمایہ کاروں سے بات کی جنہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے تفصیلی تحقیق کے بغیر سرمایہ کاری کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ٹرمپ خاندان کسی منصوبے کی پشت پناہی کر رہا ہے تو اس میں منافع کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ایک سافٹ ویئر انجینئر نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ میم کوائن میں اپنی جمع پونجی کا حصہ لگایا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ ایک محفوظ سرمایہ کاری ہوگی۔ تاہم بعد میں اس سرمایہ کاری کی مالیت نمایاں طور پر کم ہو گئی۔
تحقیق کے مطابق صرف عام سرمایہ کار ہی نہیں بل کہ کئی بڑے سرمایہ کار بھی ان منصوبوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ کچھ نے ابتدائی مرحلے میں منافع کمایا، لیکن بہت سے لوگ ایسے تھے جو قیمتوں میں کمی کے بعد نقصان اٹھاتے رہے۔
’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خاندان کا کاروباری ماڈل نسبتاً سادہ تھا۔ خاندان نے زیادہ تر منصوبوں میں براہ راست بڑی سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اپنا نام، شہرت اور عوامی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت منصوبوں میں دل چسپی بڑھتی گئی اور سرمایہ کاروں کی آمد جاری رہی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض منصوبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے اپنے ٹوکن فروخت کرنے پر پابندیاں عائد تھیں، جس کے باعث وہ قیمتیں گرنے کے باوجود اپنی سرمایہ کاری فوری طور پر واپس نہیں نکال سکے۔ اس صورتِ حال پر متعدد سرمایہ کاروں نے ناراضی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ’رائٹرز‘ کے نتائج پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم صدر ٹرمپ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کا خاندان کسی مفادات کے ٹکراؤ میں ملوث نہیں اور تمام اقدامات امریکی عوام کے مفاد میں کیے جاتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مالیاتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شعبے سے صدر کے خاندان کا مالی فائدہ اٹھانا، جس کے لیے حکومتی پالیسیاں بھی مرتب کی جا رہی ہوں، غیر معمولی صورتِ حال ہے۔ اگرچہ ان ماہرین نے اسے اخلاقی طور پر متنازع قرار دیا، تاہم موجودہ قوانین کے تحت اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کرنسی کی بھرپور حمایت کی تھی اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی اس شعبے کے حق میں کئی اقدامات کیے۔ اسی عرصے میں ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبوں نے تیزی سے توسیع حاصل کی اور عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔














