امریکا 'ایران جنگ' میں پھنس چکا ہے، بحری جہاز پر یوکرینی حملے کا جواب دیں گے: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر بلاوجہ حملہ کر کے خود کو ایک ایسی صورتحال میں پھنسا لیا ہے جہاں سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔
اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا جنگ کے آغاز کے بعد ایران تین دنوں کے اندر برباد ہو کر ہتھیار ڈال دے گا، لیکن کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی ایران مضبوطی سے کھڑا ہے جبکہ امریکا اپنے اقدامات میں خود ہی الجھ کر رہ گیا ہے۔
ایران کے قومی مفادات اور جنگ و امن کے فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ملک کے دفاع اور سفارتی راستے کا انتخاب صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر کرے گا۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”ہم نے امریکا کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دی اور نہ دیں گے کہ وہ ہمارے لیے جنگ یا امن کا وقت اور شرائط طے کرے“۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ واشنگٹن جب بھی دیکھتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں توانائی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، وہ فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی کوشش کرتا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بحیرہ خزر میں ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کو غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی ورزی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور ایران کو اس کا مناسب جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے“۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے اثرات دنیا کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں جس پر بحیرہ خزر کے ساحلی ممالک کو بھی شدید تشویش ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا اس تنازع میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تاہم ایران اس حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
علاقائی ممالک کے کردار اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والی فوجی جارحیت کا بنیادی ذمہ دار امریکا کو سمجھتا ہے، لیکن خطے کے کچھ ممالک کی اس جنگ میں شرکت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ علاقائی ممالک امریکا کے ساتھ تعاون بند کریں گے۔
سعودی عرب اور امریکا کے درمیان ایٹمی معاہدے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا استعمال ہر ملک کا بنیادی حق ہے، اور ایران پر بھی صرف اسی حق کو استعمال کرنے کی وجہ سے دباؤ ڈالا گیا تھا، جس کا فیصلہ اب دنیا کو خود کرنا چاہیے۔















