چین میں امریکی شہری جاسوسی کے الزام میں گرفتار

میانمار پر تحقیق کرنے والے امریکی تھنک ٹینک کے سربراہ من زن کو کنمنگ ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا
شائع 12 جون 2026 01:30pm

چین نے ایک امریکی شہری اور میانمار امور کے ماہر من زن کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں جاسوسی اور ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ امریکی شہری من زن، جو میانمار پر تحقیق کرنے والے ایک تھنک ٹینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان کے مطابق من زن کو متعلقہ حکام نے قانون کے مطابق “جاسوسی اور چین کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے” کے شبہے میں فوجداری حراست میں لیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے اس گرفتاری سے متعلق امریکی قونصل جنرل کو گوانگژو میں آگاہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق من زن کو جنوب مغربی چین کے شہر کنمنگ کے ایئرپورٹ پر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ وہاں پہنچے تھے۔ اس معاملے سے واقف تین افراد نے بتایا کہ گرفتاری تقریباً دو ہفتے قبل عمل میں آئی تھی، تاہم حساسیت کے باعث انہوں نے شناخت ظاہر نہیں کی۔

امریکی محکمہ خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میانمار کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

من زن، جو میانمار کی 1988 کی جمہوری تحریک میں طلبہ کارکن کے طور پر بھی سرگرم رہے ہیں، نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اس تھنک ٹینک کے بانیوں میں شامل ہیں جو 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد میانمار سے باہر منتقل ہو گیا تھا۔

یہ ادارہ میانمار کی سیاسی صورتحال، فوجی حکومت اور خانہ جنگی سمیت مختلف امور پر تحقیق کرتا ہے، جہاں فوجی حکومت اور جمہوری قوتوں کے درمیان تنازع جاری ہے۔

چین نے حالیہ عرصے میں میانمار کی نئی انتظامیہ کی کھل کر حمایت کی ہے، جو متنازع انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی اور جس میں اپوزیشن جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔