گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ سولر منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لیے 100 میگا واٹ شمسی بجلی کی فراہمی منصوبہ کے تمام تر اخراجات اٹھائے گی، منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرکے جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔
منگل کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے امور کشمیر و گلگتـبلتستان انجینئر امیر مقام اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کے سولر منصوبے سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگا واٹ شمسی توانائی کا منصوبہ ہے، گلگت اور دیا میر ڈویژنز کی سرکاری عمارات کے لیے 18 میگا واٹس کا منصوبہ دسمبر 2026 جب کہ بلتستان ڈویژن کی سرکاری عمارات کی سولرائزیشن کا یہ منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل ہوگا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گلگت، اسکردو، چلاس اور خپلو میں گھروں کے لیے 82 میگاواٹ کے شمسی توانائی کا منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہدایات دیں کہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز اور منصوبہ جلد ازجلد مکمل کیا جائے اور تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لیے 100 میگا واٹ شمسی بجلی کی فراہمی منصوبہ کے تمام تراخراجات اٹھائے گی۔















