لبنان میں امن کا امتحان؛ ماہرین کی ٹرمپ کو نیتن یاہو کی لگام کسنے کی ہدایت
لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے لیے کڑے امتحان کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو لبنان میں حملے روکنے پر مجبور نہ کیا تو نہ صرف خطے میں کشیدگی دوبارہ بھڑک سکتی ہے بلکہ حالیہ امن معاہدہ بھی ناکامی سے دوچار ہو سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ مفاہمتی معاہدے (ایم او یو) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا مستقل خاتمہ کیا جائے گا، تاہم اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نہ صرف لبنان میں فضائی حملے کر رہی ہے بلکہ زمینی پیش قدمی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی جن پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے، جو لبنان کے تقریباً 20 فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے اور تمام فریقوں کو چاہیے کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع ہے، جس میں لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران بار بار یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ جب تک لبنان پر حملے جاری رہیں گے، وہ جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دے گا۔ جمعے کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے تکنیکی امور پر ہونے والے مذاکرات بھی ملتوی کر دیے گئے، کیونکہ رات بھر جاری اسرائیلی حملوں میں درجنوں لبنانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
اگرچہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں ایک اور جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، لیکن اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ انہیں صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی عوام اور مزاحمتی محاذ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
مزاحمتی محاذ یا ”ایکسس آف ریزسٹنس“ ایران کے علاقائی اتحادیوں کا نیٹ ورک ہے، جس میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی شامل ہے۔
تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں اور وہ جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی انخلا کو بھی انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
ادھر امریکا میں اسرائیل نواز حلقوں نے معاہدے میں شامل لبنان سے متعلق شقوں پر تنقید کی ہے۔ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو لبنان میں مبینہ خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہنی چاہیے۔
ریان کوسٹیلو کے مطابق لبنان کا معاملہ اس جنگ بندی معاہدے کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل اور ایران کے درمیان دوبارہ براہ راست تصادم کا خطرہ موجود ہے۔
لبنان پر اسرائیلی حملے کئی ماہ سے جنگ بندی کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایران شروع ہی سے لبنان کی صورتحال کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تنازع سے جوڑتا آیا ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ لبنان میں اس کی کارروائیاں وسیع تر مذاکراتی عمل سے الگ ہیں۔
فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ابتدائی کارروائیوں کے بعد تنازع پورے خطے میں پھیل گیا تھا۔ مارچ میں حزب اللہ بھی جنگ میں شامل ہوگئی تھی، جس کی وجہ ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیاں اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں قرار دی گئی تھیں۔
حالیہ معاہدے کے بعد ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر بمباری جاری رکھی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری امن عمل کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار جب معاہدے میں پیش رفت ہونے لگتی ہے تو بیروت میں کوئی بڑا دھماکا یا حملہ ہوجاتا ہے جس میں عام شہری مارے جاتے ہیں، اور یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ امریکا کو اسرائیل پر اپنا سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو لبنان کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ امریکی بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات اب معمول کی سفارتی تنقید سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو اپنی اہم سیاسی کامیابی سمجھتے ہیں اور وہ اسے ناکام ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔













