صدر ٹرمپ اسرائیل پر برہم، نیتن یاہو کو ایران معاہدے کی دستاویز دکھانے سے انکار
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے نئے امن معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جہاں ایک طرف ایران سے بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ اپنے پرانے ساتھی اسرائیل سے کافی ناخوش اور ناراض ہیں۔ انہوں نے معاہدے کی دستاویز اسرائیل کو دکھانے سے بھی انکار کردیا ہے۔
فرانس میں قطر کے امیر سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے کھل کر کہا کہ میں ایران کے ساتھ اس معاہدے پر بہت خوش ہوں اور یہ معاہدہ ہر صورت کامیاب ہونا چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مدد کے بغیر اسرائیل کا دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں ہے، اور میں نے اسرائیلی وزیراعظم کو پہلے ہی صاف بتا دیا تھا کہ مجھے ان کا بیروت پر حملہ کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایران کی صورتحال ہمارے کاموں میں ایک بڑی رکاوٹ تھی، لیکن اب اس امن معاہدے کے بعد ابراہم اکارڈ کو آگے بڑھانے اور اس میں ترقی کی راہ بالکل صاف ہو گئی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکا سے باقاعدہ التجا کی تھی کہ انہیں ایران کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کی تفصیلات اور کاغذات دکھائے جائیں، لیکن امریکا نے اسرائیل کی اس درخواست کو صاف مسترد کرتے ہوئےمعاہدہ دکھانے سے بالکل انکار کر دیا۔
امریکا کا کہنا ہے کہ یہ ان کی قومی سلامتی کا ایک بہت حساس اور خفیہ معاملہ ہے اس لیے وہ یہ کاغذات کسی کو نہیں دکھا سکتے۔
امریکا کے اس اچانک اور سخت رویے پر اسرائیلی حکام نے شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے امریکی حکومت کا یہ فیصلہ بہت زیادہ حیران کن ہے۔
اس سب کے باوجود، اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری ہے اور سیز فائر معاہدے کے باوجود اس نے لبنان پر دوبارہ حملے کیے ہیں۔
ایران کی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کو ایک دو بار نہیں بلکہ پورے 48 مرتبہ توڑا ہے۔
ایرانی فوج نے اسرائیل کو آخری وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے یہ حملے فوراً بند نہ کیے تو اسے ایران کی طرف سے بہت سخت اور عبرتناک ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی معاملے پر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ہر صورت لبنان کی زمین سے اپنی فوجیں باہر نکالنا ہوں گی اور جنوبی لبنان کے معصوم شہریوں کو اپنے گھروں کو واپس آنے کا پورا حق ملنا چاہیے۔














