ایران پر حملوں کی دھمکیاں، پھر یو ٹرن؛ ٹرمپ نے کتنی بار آخری لمحے میں فیصلے بدلے؟

کیا واشنگٹن ایران کے خلاف واقعی جنگ چاہتا ہے یا فوجی دباؤ کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے؟
اپ ڈیٹ 03 اگست 2026 07:55pm

مارچ سے اگست تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم از کم چھ مرتبہ ایران پر بڑے فوجی حملوں، سخت کارروائی یا مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، مگر ہر بار آخری لمحے میں حملے مؤخر کرنے، نئی مہلت دینے، جنگ بندی کی حمایت کرنے یا مذاکرات کے اعلانات کرتے رہے۔ ٹرمپ کے ان مسلسل بدلتے فیصلوں نے نہ صرف امریکی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کیے بل کہ یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ آیا واشنگٹن ایران کے خلاف واقعی جنگ چاہتا ہے یا فوجی دباؤ کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حملے کی تمام تیاریاں مکمل کر چکا تھا، تاہم دنیا کے مفاد اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے پیش نظر کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے، تاہم تہران نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر نہ کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی مذاکرات کا کوئی شیڈول موجود ہے۔

اگر اس تازہ پیش رفت کو گزشتہ چند ماہ کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا اعلان کیا ہو اور پھر آخری لمحے میں اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا ہو۔

مارچ سے لے کر اب تک وہ متعدد بار ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن دیتے، امریکی فوج کی مکمل تیاریوں کا اعلان کرتے، سخت ترین فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے یا ایران کو مکمل تباہی سے خبردار کرتے رہے، لیکن ہر مرتبہ بعد ازاں مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ہی اعلان کردہ کارروائی مؤخر یا منسوخ کر دی۔

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ جنگ کا آغاز کو اس وقت ہوا جب امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کھلی فوجی محاذ آرائی میں تبدیل ہو گئی۔

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی تیل کی رسد، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کئی ماہ تک فوجی حملوں، جوابی کارروائیوں، جنگ بندیوں، سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔

اسی دوران صدر ٹرمپ کا مؤقف بھی مسلسل بدلتا رہا۔ 21 مارچ کی دھمکی سے شروع ہو کر 7 اپریل کی جنگ بندی، 17 مئی کو حملہ مؤخر کرنے، 11 جون کے مجوزہ فضائی حملوں، یکم اگست کی سخت وارننگ اور اب دوبارہ مذاکرات کی بات تک ان کے فیصلے بار بار تبدیل ہوتے رہے، جس سے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی مسلسل عالمی بحث کا موضوع بنی رہی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ سے اگست تک پیش آنے والے تمام اہم واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی حکمت عملی مسلسل سخت فوجی دباؤ اور سفارتی لچک کے درمیان گھومتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم چھ ایسے نمایاں مواقع آئے جب امریکی صدر نے ایران پر حملے کی دھمکی دی، فوجی کارروائی کی تیاریوں کا اعلان کیا یا حملے کی ڈیڈ لائن مقرر کی، لیکن ہر مرتبہ بعد میں مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا کسی نہ کسی سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی مؤخر یا منسوخ کر دی۔

ان واقعات کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس عرصے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی۔ آبنائے ہرمز، خلیجی بحری راستوں، توانائی کی تنصیبات، اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ ایسے اہم نکات تھے جن پر دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ جاری رہی۔

پہلا بڑا موڑ 21 مارچ کو سامنے آیا، جب صدر ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکا ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔

یہ بیان سامنے آتے ہی عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم بحری راستہ ہے اور اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونے کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم مقررہ مہلت ختم ہونے سے قبل ہی 23 مارچ کو صدر ٹرمپ نے اچانک اپنا مؤقف نرم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی کے مراکز پر مجوزہ حملہ پانچ روز کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ یوں صرف دو روز قبل دی جانے والی سخت ترین فوجی دھمکی سفارتی رابطوں کے اعلان میں تبدیل ہو گئی۔

اسی دوران 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی ایک اہم کوشش یعنی پہلی جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا، جس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا کی ایرانی وفد کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا گیا تھا، تاہم کئی گھنٹوں پر محیط بات چیت کے باوجود فریقین کسی حتمی پیش رفت پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ اگرچہ رابطے برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، لیکن بنیادی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، جس کے باعث نہ صرف مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے بل کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر سخت بیانات، فوجی دباؤ اور ممکنہ حملوں کی دھمکیاں سامنے آنے لگیں۔

اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف بیانات کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ 11 جون کو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گی اور خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

خارگ جزیرہ ایران کی خام تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے ٹرمپ کے اس بیان کے بعد نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا بل کہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔ متعدد مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ہی امریکی صدر نے پھر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کے حتمی نکات منظور ہو چکے ہیں، اس لیے طے شدہ فضائی حملے منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میمورنڈم کے بعد جون میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کا اگلا اہم مرحلہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی شہر برگن اسٹاک میں شروع ہوا، جہاں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا انعقاد کیا گیا تھا۔

ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جب کہ ایرانی وفد کی سربراہی محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کرنا، کشیدگی میں کمی لانا اور جنگ بندی سمیت دیگر متنازع امور پر پیش رفت حاصل کرنا تھا۔

برگن اسٹاک میں مذاکرات جاری تھے کہ اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف سخت بیانات دیے اور فوجی کارروائی کا عندیہ دیا۔ امریکی صدر کے ان بیانات نے مذاکراتی ماحول پر بھی اثر ڈالا، جس کے بعد ایرانی وفد نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی سیاسی مشاورت معطل کر دی۔

گو کہ ایرانی وفد اور دیگر اعلیٰ حکام مشاورت کے لیے واپس تہران روانہ ہو گئے تھے، تاہم اس کے باوجود مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں برگن اسٹاک میں موجود رہیں اور جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام اور دیگر متنازع معاملات پر ورکنگ گروپس کی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں 60 روزہ روڈ میپ، تکنیکی ورکنگ گروپس کے قیام اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اس پیش رفت کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی سیاسی اختلافات برقرار رہے اور کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔

جولائی کے آغاز میں، جب ایران اور عراق میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور سرکاری سوگ کا سلسلہ جاری تھا، امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشرقی صوبوں میں نئی فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں میں بندرعباس، بوشہر، کنارک اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری صلاحیت سے متعلق متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

نو جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیج میں موجود امریکی فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملوں کا ہدف قطر، بحرین، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات تھیں، جنہیں تہران نے امریکی کارروائیوں کا براہِ راست جواب قرار دیا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں ایک مرتبہ پھر جنگ کا دائرہ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا تھا۔

اسی پس منظر میں یکم اگست کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر ایسے فوجی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس کی شدت دوسری جنگِ عظیم کے بعد نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہیں، تاہم ساتھ ہی عندیہ دیا کہ اگر معاہدہ ہو گیا تو حملہ روک دیا جائے گا۔

اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر منصوبہ بند فوجی حملہ روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، تاہم ممکنہ سفارتی پیش رفت کے پیش نظر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات ہوں گے، تاہم تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات چیت طے نہیں ہوئی۔

بعد ازاں امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے اور دونوں ممالک ایک بار پھر سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کریں گے۔

تاہم تہران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات یا مذاکرات طے نہیں ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے مذاکراتی دور پر اتفاق نہیں ہوا۔

یوں ایک مرتبہ پھر امریکی اور ایرانی مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا۔ ایک جانب وائٹ ہاؤس سفارتی پیش رفت کی بات کر رہا ہے، جب کہ دوسری جانب تہران ایسے کسی عمل کی موجودگی سے انکار کر رہا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال اور بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے پیش نظر پاکستان سمیت بین الاقوامی برادری اور خلیجی ممالک نے دوبارہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں تیز کر دیں۔

مارچ سے اگست 2026 تک تقریباً ہر بڑے مرحلے پر ایک ہی طرزِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ پہلے سخت بیانات، فوجی کارروائی کی دھمکیاں، ڈیڈ لائنز اور حملوں کے اعلانات، لیکن بعد میں انہی مواقع پر مذاکرات، جنگ بندی، علاقائی ثالثی یا سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی روکی گئی۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی میں دو متوازی حکمت عملیاں بیک وقت دکھائی دیتی ہیں۔ ایک جانب وہ انتہائی سخت بیانات اور فوجی طاقت کے اظہار کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دباؤ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب سفارتی راستہ کھلا رکھتے ہوئے مذاکرات، جنگ بندی یا ثالثی کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرزِ عمل کا مقصد ممکنہ طور پر فوجی کارروائی سے پہلے سیاسی اور سفارتی دباؤ کو آخری حد تک استعمال کرنا ہوتا ہے، تاہم بار بار سخت اعلانات کے بعد فیصلوں میں تبدیلی سے امریکی پالیسی کے تسلسل، پیش گوئی کی صلاحیت اور اس کی عملی سمت پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

مارچ سے اب تک پیش آنے والے واقعات مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے معاملے پر امریکی حکمت عملی مسلسل فوجی دباؤ اور سفارت کاری کے درمیان جھولتی رہی ہے۔ اگرچہ ہر مرحلے پر جنگ کے خدشات پیدا ہوئے، لیکن ہر بار کسی نہ کسی مرحلے پر سفارتی راستہ اختیار کر لیا گیا۔

اس کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی تنازعات بدستور برقرار ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز، اسرائیل سے متعلق کشیدگی اور خطے میں اثر و رسوخ جیسے بنیادی معاملات پر اب تک کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اسی لیے تازہ اعلان کے باوجود خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا موجودہ کشیدگی بالآخر کسی پائیدار سفارتی حل کی طرف بڑھے گی یا ایک مرتبہ پھر فوجی محاذ آرائی کے خدشات سر اٹھائیں گے۔