ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق کارروائی کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی جب کہ امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید ترین فضائی دفاعی نظام کی مدد سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
ایرانی میڈیا نے ڈرون کی شناخت ایم کیو 9 ریپر کے طور پر کی ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بغیر پائلٹ طیارہ کہاں سے پرواز کر رہا تھا البتہ ایم کیو 9 ریپر ڈرون بنیادی طور پر امریکی فضائیہ استعمال کرتی ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق اس کارروائی کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ امریکی فوج کے اہم مسلح جاسوس طیارے ایم کیو 9 ریپر کو پہنچنے والے حالیہ نقصانات کی ایک اور کڑی ہے۔
ایرانی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران 30 سے زائد امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کو روکنے یا تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے جب کہ فروری کے آخر سے اب تک 2 درجن سے زائد ایم کیو 9 ریپر ڈرون مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں، جو جنگ سے قبل امریکی محکمہ دفاع کے زیر استعمال مجموعی بیڑے کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایم کیو 9 ریپر ڈرون کی مالیت تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر ہے جب کہ ان نقصانات کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فضائیہ کے آپریشنل ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کی تعداد کم ہو کر تقریباً 135 رہ گئی ہے، جو امریکی فضائیہ کی مطلوبہ کم از کم تعداد 189 سے بھی کم ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو 9 اے تیار کرنے والی کمپنی جنرل ایٹامکس کے پاس فروخت کے لیے 10 سے بھی کم نئے ڈرون باقی ہیں اور ایم کیو 9 اے کی پروڈکشن لائن بھی بند کی جا چکی ہے۔
ایرانی بیان کے مطابق آئی آر جی سی نے اب تک ایران، خلیج فارس اور کویت و اردن میں امریکی اڈوں پر مجموعی طور پر 41 سے 42 ایم کیو 9 ریپر ڈرون تباہ کیے ہیں۔
آئی آر جی سی کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ جوابی کارروائی آپریشن نصر 2 کے دوران اردن کے کنگ فیصل ایئر بیس پر کنٹینرز میں موجود آٹھ ایم کیو 9 ڈرونز اور رن ویز پر موجود دیگر طیارے بھی تباہ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ٹیبر نے کانگریس کو بتایا کہ فضائیہ فوری طور پر زیادہ سے زیادہ ایم کیو 9 اے ڈرون حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اپنے بیڑے کی کمی پوری کی جا سکے۔
دوسری جانب خطے میں تعینات امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے تاحال ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ امریکی حکام کی جانب سے نہ تو ڈرون گرائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تردید سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خلیجی خطے کی صورت حال بدستور حساس ہے جب کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔














