کیا امریکا کی مدد کے بغیر اسرائیل اپنی حفاظت کر سکتا ہے؟
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے واحد ساتھی پر حملے نہ کرو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسرائیل کی حفاظت کرنے والے تقریباً دو تہائی ہتھیار امریکی ہاتھوں سے بنے ہیں اور ان کا پیسہ امریکا کے ٹیکس دینے والے شہریوں نے بھرا ہے۔ جس کے بعد یہ سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں کہ کیا امریکا کے بغیر اسرائیل اپنا دفاع کر سکتا ہے؟
جے ڈی وینس کی جانب سے یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کا حق رکھتا ہے۔
اب جب کہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں سے خطے کا نازک امن خطرے میں پڑ گیا ہے، تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اسرائیل واقعی امریکی مدد کے بغیر اپنا دفاع کر سکتا ہے؟
اس پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے اور ماہرین کی آراء کو سمجھنے کے بعد ہم اس مضمون کے آخر میں آپ کو اس کا سیدھا اور صاف جواب دیں گے۔
This is Historic
— The Intel Consortium (@IntelPk_) June 18, 2026
Is it Asim Effect 🇵🇰 ❤️#Pakistan | #Iran | #Trump pic.twitter.com/gie44oy5dU
امریکا اور اسرائیل کے تعلقات اتنے گہرے اور مضبوط ہیں کہ طنزیہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اصل میں امریکا کی ہی ایک ریاست کی طرح ہے، لیکن ان دنوں دونوں کے درمیان تناؤ صاف نظر آ رہا ہے۔
اس وقت دونوں ایک عجیب مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں امریکا ایران کے ساتھ جنگ کے چکر سے باہر نکلنا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل لبنان میں موجود ایران کے حامی گروپ حزب اللہ کو قابو کرنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ اسر اس کی اس ضد کی وجہ سے ایرانھ امریکا امن مذاکرات کو بار بار روکنا پڑ رہا ہے۔
یہ گڑبڑ تب شروع ہوئی جب امریکا نے جمعرات کے روز ایران کے ساتھ چودہ نکات پر مشتمل ایک عارضی امن معاہدے پر دستخط کیے۔ اس مہر اور دستخط نے اسرائیل کے اندر ایک گہری بے چینی پیدا کر دی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے فوری اعلان کیا کہ یہ معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا، جبکہ ان کے وزیر دفاع نے اپنی فوج کو حکم دے دیا کہ اگر ضرورت پڑے تو ایران کے ایٹمی ٹھکانوں پر اکیلے ہی حملہ کرنے کی پکی تیاری کر لیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر اسرائیل امریکا کو ناراض کر کے اکیلے چلنا چاہے، تو کیا اس کی فوج میں اتنی طاقت ہے؟ وہ امریکی ہتھیاروں پر کتنا انحصار کرتا ہے اور اگر امریکا ہاتھ کھینچ لے تو اسرائیل کتنے دن ٹک پائے گا؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے ملک میں بہت سے ہتھیار بنانے اور انہیں دوسرے ملکوں کو بیچنے کے باوجود، اپنی زیادہ تر فوجی ضرورتوں کے لیے پوری طرح امریکا کا محتاج ہے۔ اور یہ محتاجی اتنی زیادہ ہے کہ اگر امریکا اسرائیل کو سزا دینے کا فیصلہ کر لے، تو اسرائیل سے ہتھیار خریدنے والے دوسرے ملک بھی مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔
ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ میں شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کے بننے سے لے کر اب تک امریکا اسے 130 ارب ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد دے چکا ہے۔ 2019 سے واشنگٹن ہر سال اسرائیل کو تقریباً پونے چار ارب ڈالر صرف فوجی اخراجات کے لیے دے رہا ہے۔ یہ پیسہ ایک خاص پروگرام ’فارن ملٹری فنڈنگ‘ کے تحت دیا جاتا ہے جس سے کوئی بھی ملک صرف امریکی ساختہ ہتھیار ہی خرید سکتا ہے۔
سابق امریکی فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار جان اسپینسر نے اس حوالے سے ایک دلچسپ پہلو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ یہ پیسہ اصل میں امریکی معیشت سے باہر نہیں جاتا، بلکہ اسرائیل اس رقم کا 74 فیصد حصہ واپس امریکی فیکٹریوں اور کمپنیوں کو ہتھیار خریدنے کے لیے ادا کر دیتا ہے، جس سے امریکا کے اپنے مزدوروں اور کارخانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
اس کے علاوہ، پچھلے دو سالوں میں امریکا نے اسرائیل کو 21 ارب ڈالر سے زیادہ کے اضافی جنگی ہتھیار فراہم کیے ہیں، اور لبنان و ایران کی حالیہ لڑائی کا خرچہ اس کے علاوہ ہے جو اربوں ڈالر تک جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے پورے فوجی بجٹ کا 20 فیصد حصہ براہِ راست امریکی امداد سے چلتا ہے۔
اسرائیل کی یہ مجبوری اس کے ہتھیاروں کے گودام کو دیکھ کر صاف سمجھی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اسرائیل کی فضائیہ دنیا کی بہترین فضائیہ میں سے ایک مانی جاتی ہے جس نے ایران کے ساتھ جنگ میں ہزاروں اڑانیں بھریں اور اس کا ایک بھی جہاز نہیں گرا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فضائیہ کا ایک ایک پرزہ امریکی کمپنیوں کا بنایا ہوا ہے۔
اسرائیل کے پاس موجود تمام جنگی جہاز، بشمول 75 ایف-15، 196 ایف-16 اور 39 سب سے جدید طیارے ایف-35، سب امریکا کے دیے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کے تمام حملہ آور اور سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر اور ہوا میں پیٹرول بھرنے والے جہاز جن میں 46 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹر، 25 سی اسٹالین، 49 بلیک ہاک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر، کنورٹڈ بوئنگ 707 اور کے سی 46 پیگاسس ایریل ری فیولنگ ٹینکرز شامل ہیں، سب امریکی ساختہ ہیں۔
اگر ان جہازوں کے انجن یا ریڈار خراب ہو جائیں، تو ان کے پرزے بھی امریکی کمپنیوں سے ہی منگوانے پڑتے ہیں۔
یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن (جے ڈی اے ایم) نامی وہ خاص کٹ جو عام بموں کو اسمارٹ بنا کر انہیں درست نشانہ لگانے کے قابل بناتی ہے، وہ بھی امریکا ہی سپلائی کرتا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ کو مارنے کے لیے جو بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے تھے، وہ بھی امریکا کے تھے۔
پچھلے سال اسرائیل ایران کی زمین کے نیچے بنی ایٹمی لیبارٹریوں پر اس لیے حملہ نہیں کر سکا کیونکہ اس کے پاس وہ خاص وزنی بم نہیں تھے اور اسے امریکا کی مدد لینی پڑی تھی۔
اسی طرح اسرائیل کا مشہور دفاعی نظام، جو میزائلوں اور ڈرونز کو ہوا میں ہی تباہ کر دیتا ہے اور جسے آئرن ڈوم کہا جاتا ہے، وہ بھی امریکی مدد کا محتاج ہے۔ اگرچہ اسے ڈیزائن اسرائیل نے کیا ہے، لیکن یہ ایک امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے اور امریکی حکومت نے اس نظام کے لیے عام امداد سے ہٹ کر الگ سے تین ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم دی ہے۔
جب جنگ کے دوران دشمن کی طرف سے بہت زیادہ میزائل آئے اور اسرائیلی نظام تھکنے لگا، تو امریکی فوج نے خود مداخلت کر کے اپنے پیٹریاٹ اور تھاڈ نامی بڑے میزائل سسٹم وہاں تعینات کیے تاکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک شعبہ ایسا ہے جہاں اسرائیل امریکا سے آزاد ہے اور وہ ہے اس کا اپنا ایٹمی پروگرام اور اس کے اپنے بنائے ہوئے کچھ بڑے میزائل اور سمندری آبدوزیں جو جرمنی سے بنوائی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ اگرچہ وہ اپنے ٹینک اور توپیں خود بناتا ہے، لیکن ان ٹینکوں کے انجن اور گیئر بکس بھی امریکی فیکٹریوں سے آتے ہیں جن کا پیسہ امریکی امداد سے ہی دیا جاتا ہے۔
اب اس اہم سوال پر آتے ہیں کہ اگر امریکا اچانک اپنی مالی اور فوجی امداد بند کر دے، تو کیا اسرائیل اکیلا بقا کی جنگ لڑ سکتا ہے؟
تو اس کا جواب ایک سیدھا اور صاف ”نہ“ ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل اکیلے لمبی روایتی جنگ لڑنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ اگر امریکا پرزوں اور ہتھیاروں کی سپلائی روک دے، تو اسرائیل کے آدھے جہاز اڑنے کے قابل نہیں رہیں گے اور کسی لمبی جنگ میں اس کے پاس بم اور میزائل بہت جلدی ختم ہو جائیں گے کیونکہ اس کے پاس اتنا بڑا ذخیرہ موجود نہیں ہے۔
خود اسرائیل کے پرانے قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیف چک فریلیچ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صرف اپنے ملک میں بم بنانا کافی نہیں ہے، کیونکہ ان بموں کو گرانے کے لیے جہاز پھر بھی امریکا سے ہی لینے پڑیں گے۔ اسرائیل کے پاس اتنی بڑی معیشت بھی نہیں ہے کہ وہ اکیلے اتنے مہنگے اور جدید ترین طیارے بنا سکے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1980 کی دہائی میں جب اسرائیل نے اپنا جنگی جہاز بنانے کی کوشش کی تھی، تو اس کے خرچے نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا اور وہ پروجیکٹ بند کرنا پڑا۔ انہوں نے یروشلم پوسٹ وک دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے جس کے وسائل محدود ہیں، اس لیے وہ اکیلے اتنے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔
دوسری طرف، اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ دونوں کا رشتہ بالکل ٹوٹ جائے گا، کیونکہ امریکا کو بھی اسرائیل سے بہت سے فائدے ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ امریکی پیسہ گھوم پھر کر واپس ان کے اپنے کارخانوں میں آتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب اسرائیل جنگ کے میدان میں جدید امریکی ٹیکنالوجی اور ڈرونز کا استعمال کرتا ہے، تو امریکی فوج کو بغیر اپنے سپاہیوں کی جان گنوائے اور بغیر کوئی غلطی کیے یہ سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے کہ جدید جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ، اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد امریکا کو دنیا بھر کے دشمنوں، نیٹ ورکس اور دہشت گرد گروپوں کے بارے میں بہت قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔
اسرائیل کی اس امریکی محتاجی کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑتا ہے جو اسرائیل سے ہتھیار خریدتے ہیں، جیسے کہ بھارت۔ ماضی میں جب بھارت نے اسرائیل سے دو بہت جدید ریڈار اور طیارے خریدنے کی کوشش کی، تو اگرچہ وہ اسرائیلی پروڈکٹ کے نام پر بک رہے تھے، لیکن ان کے اندر امریکی ریسرچ اور پرزے استعمال ہوئے تھے۔ اس وجہ سے وہ سودا تب ہی ممکن ہو سکا جب امریکی حکومت نے اس کی باقاعدہ منظوری دی۔
اس لیے یہ بات اب بالکل شیشے کی طرح صاف ہے کہ اسرائیل چاہے جتنا بھی دعویٰ کرے کہ وہ اپنے فیصلے اکیلے کر سکتا ہے اور ایران یا اس کے حامیوں کو خود دیکھ سکتا ہے، وہ امریکی امداد کی لائف لائن کو کاٹنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ واشنگٹن کی مدد کے بغیر، اسرائیل کے لیے اپنے وجود اور مفادات کا دفاع کرنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا۔












