اسرائیلی فوج کا لبنان سے انخلا: ایران کا امریکا سے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ
ایران نے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے غیر مشروط اور مکمل انخلا کے لیے واضح ٹائم لائن دینے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جنگ کے خاتمے، کسی بھی حتمی معاہدے کی کامیابی اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کو ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے لیے واضح اور قابل عمل ٹائم ٹیبل طے کیا جانا ضروری ہے کیوں کہ اسی کے ذریعے جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی معاہدے پر مؤثر عمل درآمد اور خطے میں دیرپا استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی پہلی شق پر عمل درآمد سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران لبنان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور لبنانی عوام کی عزت و سلامتی کو ہر پائیدار معاہدے کی بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کا مؤقف اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہے، جن کے مطابق لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کسی بھی جنگ بندی یا امن معاہدے کی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی مؤقف 8 اپریل کی جنگ بندی سے متعلق مفاہمت اور 18 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے دوران بھی اختیار کیا گیا تھا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کے ساتھ اپنی بنیادی شرائط میں شامل کیا تھا اور ان وعدوں پر مکمل عمل درآمد پر مسلسل زور دیتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر مکمل عمل درآمد، جس میں لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا شامل ہے، حتمی اور دیرپا معاہدے کے لیے ناگزیر ہے۔
اسماعیل بقائی نے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو لبنان بھر میں تمام فوجی کارروائیاں اور حملے روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر واضح ٹائم ٹیبل مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد اور خطے میں پائیدار امن و سلامتی کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں 14 نکاتی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کا خاتمہ اور سرحدی سلامتی سے متعلق دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس بلانے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے، اسرائیل کا مؤقف ہے کہ شمالی اسرائیل کی آبادی کو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ سے مسلسل سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، اس لیے فوج کا انخلا ممکن نہیں۔
ادھر جمعے کے روز اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان ایک ایسے طریقہ کار پر اتفاق ہوا،جس کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی تاہم اب تک لبنانی فوج حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے یا جنوبی لبنان سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلانے پر مجبور نہیں کر سکی ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 4 ہزار 246 افراد ہلاک جب کہ 12 ہزار 190 زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے اور قبضہ جاری رہے گا، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق جون میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔














