مجتبیٰ خامنہ ای کا ایرانی رہنماؤں کے قتل پر عالمی عدالت جانے کا عندیہ

ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔
شائع 28 جون 2026 06:45pm

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی رہنماؤں کے قتل پر عالمی عدالت جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نومولود سے لے کر ہمارے بزرگوں کو شہید کیا گیا، ہر قتل ہزاروں قانونی کیسز کی ایک فائل ہے، ہمیں ان کیسز کو علاقائی اور عالمی عدالتوں میں لے جانا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔

اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام اور عدالتی حکام سے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کو شہید کیا گیا، جب کہ سب سے بڑھ کر دورِ حاضر کے نایاب ہیروں اور مجاہد رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض امریکی اور صیہونی رہنماؤں نے اپنی تقاریر اور بیانات میں ان جرائم کا اعتراف کیا ہے، جو قانونی کارروائی کے لیے اہم شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ہر قتل ہزاروں قانونی کیسز کی ایک فائل ہے اور ان تمام مقدمات کو علاقائی اور عالمی عدالتوں میں لے جانا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد اور ایرانی قوم کے حقوق کا قانونی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت کی کہ گزشتہ سال سے ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک، عوام اور ریاست کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر قانونی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات مجرمانہ ذمے داری کے اعتراف کے مترادف ہیں، جنہوں نے ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جون 2025 اور فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں، زخمیوں اور ملک کو پہنچنے والے نقصانات کی بنیاد پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں قانونی مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے میناب اور لامرد میں بچوں کی ہلاکتوں، طبی مراکز، عوامی خدمات کی تنصیبات اور دیگر شہری اہداف پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نومولود بچوں سے لے کر بزرگ شہریوں تک کی ہلاکتیں سنگین جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ مسلط کیے جانے کی تحقیقات ہوئی تھیں، اسی طرح تیسری عالمی جنگ مسلط کرنے کی کوششوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کا حصول، جنگ اور بدعنوانی کا خاتمہ ایک محنت طلب عمل ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال، مؤثر انٹیلی جنس نظام، قوانین کے نفاذ، عوامی حقوق کے تحفظ اور عدالتی نظام کی مضبوطی پر توجہ دینا ضروری ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق عدلیہ کی ذمہ داری صرف انفرادی مقدمات تک محدود نہیں بلکہ عوامی حقوق، قانونی آزادیوں، انصاف کے قیام، بدعنوانی کے خاتمے، ملکی مفادات کے تحفظ اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے جب کہ مؤثر قانونی اقدامات مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔