جنوبی کوریا کے ورلڈ کپ سے جلد باہر ہونے پر صدر کا ایکشن، تحقیقات کا حکم
جنوبی کوریا کے صدر صدر لی جے میونگ نے فٹبال ٹیم کے ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں باہر ہونے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ لی جے میونگ نے کورین فٹ بال فیڈریشن کی مینجمنٹ اور کوچ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ ایک آسان گروپ میں شامل ہونے کے باوجود ٹیم کا یوں باہر ہونا ناقابلِ قبول ہے جس پر مجھے نہ صرف حیرانی بلکہ شدید دھچکا لگا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تمام انتظامات اور سہولیات عوام کے ٹیکس سے ہی ممکن ہوتی ہیں، اس لیے اس ناکامی کے تمام اسباب کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ہیڈ کوچ ہونگ میونگ بو کی تقرری پر فٹ بال فیڈریشن کی مینجمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صحیح عہدے پر صحیح بندہ نہ لانا سب کچھ برباد کر دیتا ہے۔ جب میرٹ اور قابلیت کے بجائے اپنوں کو نوازا جاتا ہے اور ایک نااہل شخص کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو انجام اتنا ہی بھیانک ہوتا ہے۔‘
صدر لی نے ٹیم کی مایوس کُن کارکردگی پر عوام سے بھی معذرت کی اور کہا کہ حکومت کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے میں فوری اصلاحات کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
انہوں نے وزارتِ کھیل کو فوری حکم دیا کہ وہ اس شرمناک شکست کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرے اور فٹ بال ایسوسی ایشن کے اندرونی معاملات اور کوچ کی تعیناتی کے پورے عمل کا دوبارہ جائزہ لے تاکہ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی ٹیم اسٹار کھلاڑی سون ہونگ من کی موجودگی کے باوجود راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنانے میں ناکام رہی، جسے مقامی میڈیا تاریخ کی بدترین پرفارمنس قرار دے رہا ہے۔
جنوبی کوریا کو گروپ اے میں میزبان میکسیکو، جنوبی افریقہ اور چیک ری پبلک کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ کورین ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں چیک ری پبلک کو 1-2 سے ہرایا تھا۔ دوسرے میچ میں اسے میزبان میکسیکو کے خلاف 0-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تیسرے اور فیصلہ کُن میچ میں جنوبی کوریا کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کم از کم ڈرا کرنا لازمی تھا، لیکن جنوبی افریقہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کوریا کو 0-1 سے ہرا دیا تھا۔
واضح رہے کہ اس ورلڈ کپ میں کُل 48 ٹیمیں شامل ہیں، جہاں ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیموں کے علاوہ تمام گروپس میں تیسرے نمبر پر موجود ٹیموں میں سے ٹاپ کی آٹھ ٹیموں کو اگلے راؤنڈ میں جانا تھا۔
جنوبی کوریا کچھ دن گروپ میں 3 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی تاہم جب کانگو نے ازبکستان کو 1-3 سے ہرایا تو جنوبی کوریا تیسرے نمبر کی ٹاپ 8 ٹیموں کی لسٹ سے نکل کر 9ویں نمبر پر چلی گئی۔ یوں وہ محض چند گولز اور پوائنٹس کے فرق کی وجہ سے راؤنڈ آف 32 کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔
اس شکست کے بعد جنوبی کوریا میں فٹ بال فینز شدید غصے میں ہیں۔ کوریائی فٹ بال ایسوسی ایشن نے عوام کے احتجاج اور تنقید کے خوف سے ٹیم کی وطن واپسی پر ائیرپورٹ پر کسی بھی قسم کی آفیشل استقبالیہ تقریب نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو عوامی غصے سے بچایا جا سکے۔
ایشیا کی بڑی ٹیموں میں سے اب صرف جاپان ہی واحد ٹیم ہے جو راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنا سکی ہے اور کل رات برازیل کے خلاف پہلا ناک آؤٹ میچ کھیلے گی۔
















