آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ: ایران امریکا معاہدے کی ایک شق کیسے نئے حملوں کی وجہ بنی؟

وہ قانون کیا ہے جس کی وجہ سے امریکا اور ایران دوبارہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے۔
شائع 29 جون 2026 12:33pm

آبنائے ہرمز پر قبضے اور کنٹرول کی جنگ نے امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا ایک ایسا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے جس نے دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں ہونے والے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سترہ جون کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، لیکن اتوار کو دونوں نے ایک دوسرے پر شدید حملے کیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں ملک اس لڑائی کی وجہ ایک ہی قانون کو بتا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر اس قانون کو توڑنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ قانون امن معاہدے میں شامل ’آرٹیکل پانچ‘ ہے اور معاہدے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ آرٹیکل پانچ آخر ہے کیا؟

جب فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئی، تو ایران نے دنیا میں تیل سپلائی کرنے والے سب سے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ کیونکہ دنیا بھر کا بیس فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے اس بندش سے پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہو گیا۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہوا، جس کے پانچویں نکتے یعنی آرٹیکل پانچ میں لکھا گیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے اگلے ساٹھ دنوں کے لیے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی ٹیکس یا فیس کے امن و امان کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے گا۔ ساتھ ہی ایران تیس دنوں کے اندر سمندر سے بارودی سرنگیں اور فوجی رکاوٹیں بھی ہٹائے گا اور عمان و دیگر خلیجی ملکوں کے ساتھ مل کر اس راستے کو چلانے کا مستقل طریقہ طے کرے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہو گیا تھا تو دوبارہ لڑائی کیوں شروع ہوئی؟

اصل میں دونوں ملک اس قانون کا مطلب اپنے اپنے فائدے کے لیے الگ نکال رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بارے میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں بات کرتے ہوئے صاف کہا کہ معاہدے کے تحت اگلے تیس دنوں تک آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی اور انتظام صرف اور صرف ایران کے پاس ہے اور اس معاملے میں کوئی دوسرا ملک یا فریق مداخلت نہیں کر سکتا۔

ایران کا ماننا ہے کہ اگر کوئی بھی دوسرا ملک اپنی مرضی کرے گا تو حالات خراب ہوں گے اور راستہ کھولنے میں تاخیر ہو گی۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر حسن احمدیان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خود اپنے دستخط کیے ہوئے معاہدے سے مکر رہا ہے اور ایران پر پابندی لگا رہا ہے، لیکن خود الگ راستے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس سمندری راستے کو اپنے دفاع کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ امریکا دوبارہ اس پر حملہ نہ کر سکے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی زبردستی ایران کو قبول نہیں ہے۔

دوسری طرف، آسٹریا کے ایک دفاعی ماہر وولف گینگ پوزٹائی کا کہنا ہے کہ ایران پورے راستے پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے جبکہ امریکا اور عرب ممالک چاہتے ہیں کہ جہازوں کو بالکل کھلی آزادی ہو۔

واضح رہے کہ امریکا نے عمان کے ساتھ مل کر سمندر کے جنوبی حصے سے جہازوں کو گزارنے کے لیے ایک نیا راستہ بنانے کی کوشش کی تھی، جو ایران کو بالکل پسند نہیں آئی۔ ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے جہازوں کو وارننگ دی کہ صرف ایران کے سمندری علاقے والا شمالی راستہ ہی جائز راستہ ہے۔

انہوں نے عمان کے راستے جانے والے چار بڑے جہازوں کو زبردستی واپس موڑ دیا۔ اس سختی کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد روزانہ ستر سے کم ہو کر صرف چالیس رہ گئی اور جمعے اور ہفتے کو دو تجارتی جہازوں پر ڈرون حملے بھی ہوئے۔

ان حملوں کے بعد امریکا نے بھی ایران پر فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اب سیز فائر پر اتفاق ہوچکا ہے اور امید ہے کہ مذاکرات کے درمیان اس شق کا کوئی حل بھی نکل آئے گا۔