لاہور: بغیر اجازت گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز بند اور جرمانوں کا فیصلہ

حفاظتی انتظامات، طلبہ کی تعداد اور رجسٹریشن کا ریکارڈ جمع کیا جائے گا، غیر رجسٹرڈ مراکز بھی نشاندہی کی جائے گی
اپ ڈیٹ 01 جولائ 2026 03:10pm

کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے شہر بھر میں قائم ٹیوشن سنٹرز، اکیڈمیز اور تعلیمی عمارتوں کا ہنگامی سروے کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے بغری اجازت گھروں میں ٹیوشن پڑھانے پر جرمانے ہوں گے۔

سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق سروے کے دوران تمام نجی اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز میں حفاظتی انتظامات، طلبہ کی تعداد اور دیگر ضروری معلومات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، جبکہ تین روز میں سروے مکمل کرکے جامع رپورٹ تیار کی جائے گی۔

ایجوکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی بنیاد پر نجی ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لیے نئی پالیسی اور ضابطہ کار مرتب کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

سروے میں غیر محفوظ اور غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹرز کی نشاندہی بھی کی جائے گی، جبکہ اس مقصد کے لیے زونل ہیڈز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز (اے ای اوز) پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو تین روز کے اندر اپنا کام مکمل کریں گی۔

ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہر بھر میں نجی اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ڈائریکٹر کمیونیکیشن ایجوکیشن اتھارٹی طارق محمود کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج کی روشنی میں آئندہ کے لیے مؤثر اور جامع ریگولیٹری نظام متعارف کرایا جائے گا۔

دوسری جانب لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے تمام غیرقانونی ٹیوشن سینٹرز کو بںد کرنے کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بغیر اِجازت گھروں کے کمرشل استعمال پرجرمانے ہوں گے۔