لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ

یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں: اسرائیلی وزیراعظم
شائع 06 جولائ 2026 10:48am

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں کی اور وہ اپنی لبنانی شناخت اور قومی پرچم کے وفادار ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق۔

مسیحی دیہات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا یہ بیان انہی مسیحی دیہات کے تناظر میں تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون کے حوالے سے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے، جبکہ وہ وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی حملے بھی کرتا رہا ہے۔

دو مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی بمباری اور گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

بعد ازاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومت، جس کی قیادت صدر جوزف عون کر رہے ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات پر گولہ باری اور بمباری کی، کئی دیہات کو خالی کرایا، جبکہ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے اسرائیلی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان دیہات کا شہری انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور دیگر املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈرز مبینہ طور پر فون پر دیہات کے میئروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کرتے رہے کہ حزب اللہ کو ان علاقوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

ادھر اتوار کو ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک شمالی اسرائیل کے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھا جائے گا۔

اسی روز اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں واقع بیو فورٹ کیسل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج علاقے میں موجود ہر خطرے کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔ ان کا یہ بیان امریکا کی نگرانی میں ہونے والے حالیہ اسرائیل-لبنان معاہدے کے باوجود سامنے آیا۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کا بھی ذکر کیا۔

۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں اور تقریباً 99 فیصد معاملات پر اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم بعض امور پر اتحادیوں کے درمیان بھی رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم ہر معاملے پر کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔“

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر کھل کر تنقید کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ ”باس کون ہے“، جبکہ انہوں نے نیتن یاہو کے جلد امریکا کے دورے کا بھی عندیہ دیا ہے۔